ایران میں مغربی میڈیا گروپس کے درجنوں صحافیوں کو سزائیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران میں مغربی میڈیا گروپس کے درجنوں صحافیوں کو سزائیں دی گئیں۔

یہ سزائیں اس وقت منظر عام پر آئیں جب پچھلے ہفتے ہیکنگ گروپ عدالت علی نے ایرانی محکمہ انصاف کی دستاویزات شائع کیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ تہران کی انقلابی عدالت نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس اور کئی مغربی میڈیا گروپس کے درجنوں صحافیوں کے خلاف 2022 میں ہونے والے ایک خفیہ مقدمے میں فیصلے سنائے تھے۔

افشا ہونے والی ایرانی عدالتی دستاویزات میں، جن کا وائس آف امریکا(وی او اے )فارسی سروس نے جائزہ لیا اور اسے قابل اعتبار سمجھا ہے۔

وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کے گیارہ صحافیوں اور فارسی سروس کی سابق ڈائریکٹر ستارہ درخشہ سیگ کو ایرانی حکومت کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نامزد افراد کو قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے دورانیے کی وضاحت نہیں کی گئی اور ان فیصلوں کو ایرانی پراسیکیوٹر کے دفتر کے میڈیا اور ثقافتی امور سے متعلق شعبے کو عمل درآمد کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔

وائس آف امریکہ کے جن گیارہ صحافیوں کو سزا سنائی گئی ہے، ان میں چار خواتین شامل ہیں، جن کے نام حمیدہ آرامیدہ، سارہ دہقان، فہیمہ خضر حیدری اور مہتاب واحدی راد ہیں۔ جب کہ سات مردوں کے نام ہیں؛ مہدی آغا زمانی، محمد بقراتی، روزبہ بولہاری، مہدی فلاحتی، آرین ریسباف، آرش سگارچی اور پیام یزدیان۔

منگل کو وائس آف امریکہ کے قائم مقام ڈائریکٹر جان لپ مین نے اپنے ایک بیان میں کہا، "ایران کی طرف سے یہ اقدامات ایک ایسی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں جو انسانی حقوق یا قانون کی حکمرانی کو اہمیت نہیں دیتی۔”

بیان میں کہا گیا "یہ معلومات کے آزادانہ بہاؤ کو روکنے کی کوششیں ہیں جن کا کھلے عام اظہار نہیں کیا جاتا۔ یہ سزائیں خواتین کے حقوق، اپنی رائے کے اعلانیہ اظہار اور ایران میں آزاد معاشرے کی اہمیت کے مسائل کو بھرپور انداز میں برقرار رکھنے میں وی او اے فارسی سروس کی کامیابی کا بھی ثبوت ہیں۔ وی او اے اپنے صحافیوں اور ان کی رپورٹنگ کے ساتھ کھڑا ہے۔”

Share This Article
Leave a Comment