کوہلو: لیویز ڈیتھ کیسز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کوہلو میں لیویز ڈیتھ کیسز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

کوہلو کے علاقے تمبو کے رہائشی قبائلی رہنما حاجی گلزار مری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیویز رسالدار میجر شیر محمد مری نے لیویز اہلکاروں کے ڈیتھ کیسز پر فی اہلکار کے 29 لاکھ نکالیں ہیں اوران میں سے لواحقین کو صرف 9 لاکھ دے کر باقی پیسے کرپشن کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے والد جو لیویز کا دفعدار تھا انکے پنشن کو بھی روکا ہوا ہے جبکہ ذاتی انا و بغض کے بنا پر ہمارے تحصیل کا لیویز تھانہ کوٹے شہر کے نام کو تبدیل کرکے لیویز سپاہی لالا محمد شیرانی کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیویز سپاہی لالا محمد شیرانی کا تعلق کاہان سے ہے بہتر ہوتا کہ وہاں کے تھانے کا نام لالا محمد شیرانی پر رکھتے مگر لیویز رسالدار میجر شیر محمد مری نے اپنے ذاتی بغض میں آ کر کوٹے شہر کا نام تبدیل کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوٹے شہر انگریز دور میں اسٹیبلش ہوا تھا کوٹے شہر تمبو سب تحصیل تمبو میں واقع ہے۔ لیویز رسالدار شیر محمد کے کہنے پر کوٹے شہر تھانہ کا نام لیویز سپاہی لال محمد شیرانی کے نام پہ رکھا ہے جوکہ پچھلے دنوں کاہان میں قتل ہوا تھا ۔کاہان ایک علیحدہ تحصیل ہے وہاں کے تھانے کا نام لال محمد شیرانی کے نام پر رکھا جائے۔

ان کاکہنا تھا کہ ایسے اقدام سے قبائلی تنازعات جنم لیتے ہیں جس سے ہماری شناخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اگر کوئی تنازع وغیرہ ہوا تو اس کے تمام تر ذمہ داری لیویز رسالدار میجر شیر محمد مری پر عائد ہوگا جبکہ میں شیر محمد مری کے ساتھ اپنا بلوچی رسم کا حق بھی محفوظ رکھتا ہوں۔ نیز اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوہلو نقیب اللہ کاکڑ اور اسسٹنٹ کمشنر کوہلو جہانزیب نور شاہوانی کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment