بلوچستان کے افغانستان سے ملحق چمن بارڈر پر تجارت بحال کردئی گئی ہے ۔ جس سے صرف ڈرائیوروں کو لوکل دستاویزات سے آنے جانے کی اجازت دیدی گئی ہے ۔
جبکہ بارڈر پر ڈرائیوروں کو شناختی کارڈ اور دسکیرہ سے اجازت ملنے پر گدھا گاڑی والے سراپا احتجاج بن گئے ۔
چمن بارڈر پر تجارت عرصہ 4 ماہ کی طویل بندش کے بعد دو طرفہ تجارت دوبارہ بحال کر دی گئی جس میں ڈرائیوروں کو شناختی کارڈ اور دسکیرہ پر آنے جانے کی اجازت مل گئی ہے جبکہ پیدل آمدورفت والے افراد کیلئے پاسپورٹ کی شرط برقرار ہے ۔جس کیلئے پچھلے ساڑھے چار ماہ سے دھرنا جاری ہے۔
ڈرائیوروں کو لوکل دستاویزات پر آمدورفت کی اجازت ملنے پر گدھا گاڑی والے سراپا احتجاج بن گئے اور انہیں لوکل دستاویزات پر آنے جانے کے مطالبہ کررہے ہیں ۔
بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کیلئے دھرنا کمیٹی اور سیکورٹی احکام کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد باہمی اتفاق سے فیصلہ کیا گیا ہے۔
اب چمن اور سپین بولدک کے افراد بھی پیدل آمدورفت مقامی دستاویزات پر کرنے کیلئے طویل عرصہ سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہیگی ۔
تاہم تجارت کو بحال کرنے کیلئے تاجر برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔
واضح رہے تجارت کی بندش سے کسٹم روینو کو یومیہ کروڑوں کا نقصان ہورہا تھا اور تاجروں کے بھی کروپوں روپے کے نقصانات ہورہے تھے۔