غزہ میں اگلے 6 ماہ دوران مزید 8 ہزار لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکہ اور برطانیہ کے آزاد محققین کی طرف سے تیار کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اگلے چھ ماہ کے دوران تقریباً آٹھ ہزار مزید افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر لڑائی اب بند ہو بھی جاتی ہے بھی ان لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حماس اوراسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران صحت عامہ کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مریض اپنی جانوں سے جا سکتے ہیں۔

یہ اعداد وشمار لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن اور امریکہ میں جانز ہاپکنز سنٹر فار ہیومینٹیرین ہیلتھ کے ماہرین تعلیم کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں موجود ہیں۔

رائیٹرز کے مطابق سوموار کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں اسرائیل شامل نہیں ہے کیونکہ اس کا صحت عامہ کا نظام متاثر نہیں ہوا تھا۔

محققین کا خیال ہے کہ اگر لڑائی جاری رہتی ہے یا اس میں اضافہ ہوتا ہے تو غزہ میں زیادہ تر اضافی اموات کی وجہ شدید چوٹیں ہوں گی۔لیکن خوراک کی کمی، ہیضہ جیسی متعدی بیماریوں اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کاعلاج نہ ہونے اور دیگر موذی اموات بھی ہزاروں افراد کی جان لے لیں گی۔

جنگ بندی کے تحت بھی اسی عرصے میں تقریباً 11,580 افراد ہلاک ہو سکتے ہیں اگر وبا غزہ میں صفائی اور صحت کے نظام کی بحالی سے متعلق چیلنجوں کو بڑھا دیتی ہے تو اموات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان میں سے تقریباً 3,250 اموات طویل مدتی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوں گی جو شدید زخموں کے نتیجے میں ہوسکتی ہیں اور 8,330 دیگر وجوہات کے نتیجے میں ہوں گی۔

غزہ میں وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 7 اکتوبر سے جاری لڑائی کے نتیجے میں 29,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment