اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کے ایک رکن ریٹائرڈ جنرل بینی گانٹز نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر حماس نے رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے غزہ میں قید بقیہ یرغمالوں کو رہا نہ کیا تو رفح میں لڑائی جاری رہے گی۔
توقع کی جا ر ہی ہے کہ وہاں رمضان کا آغاز 10 مارچ سے ہو گا۔
اسرائیلی فورسز نے پیر کے روز غزہ کی جنوبی پٹی میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں جہاں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد پناہ لیے ہوئے ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اکتوبر سے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد اب 29000 سے بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے غزہ کے جنوب میں واقع سب سے بڑے قصبے خان یونس میں اہداف پر حملے کیے ہیں۔
غزہ اور قریبی آبادیوں سے فرار ہونے والے فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد نے مصر کی سرحدی گزرگاہ کے قریب رفح میں پناہ لے رکھی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہاں حماس کے جنگجو موجود ہیں اور وہ ان کے خاتمے تک اپنی جنگ جاری رکھے گا۔ جس سے بین الاقوامی سطح پر خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔