اُمیدِ انتظار | فرزانہ رودینی

0
97

( لاپتہ بھائی سیف اللہ رودینی کے نام )

موسُموں کے رنگ بدل رہے ہیں۔ وقت کی سائیکل اپنے رفتار میں چل رہی ہے۔ لیکن میری زندگی اسی لمحے اور گھڑی میں رک سی گئی ہے جس دن آپ جدا ہوگئے۔ اسی دن سے لیکر آج تک میں انتظار کی آگ میں جھلس رہی ہوں۔ ایک ایسی آگ جس نے میری زندگی کے تمام رنگوں کو جلا کر راکھ کردیا ہے اور میں اس اذیتناک آگ کے بُجھنے کی انتظار میں ہوں کہ کب دوبارہ آپ سے ملاقات ہو گی۔

اس وقت میں اپنے آپ سے باتیں رہی ہوں۔ لیکن کیا کروں آپ سے دوری کے بعد اکیلے پن نے مجھے اپنے آغوش میں لے لیا۔ میں اس اکیلے پن سے نجات پانے کی پوری کوشش کرتی ہوں لیکن ہمیشہ ناکام ہوجاتی ہوں۔ اب تو اس اکتاہٹ سے مجھے دوستی ہوگئی ہے اسی لئے میں بس اپنے آپ کو سنتی ہوں اپنے آپ سے آپ کی باتیں کرتی ہوں۔

کھبی کھبی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے آپ سے جنگ لڑ رہی ہوں۔ ایسی جنگ جس کا انجام بس آپ سے وابستہ ہے۔جس دن آپ دوبارہ میری آنکھوں کے سامنے ہوں
گے اسی دن میں اس جنگ میں کامیاب ہونگی۔

شاید میرے پاس وہ الفاظ موجود نہیں جس میں اپنے درد اور تکلیف کو بیان کرسکوں۔ لیکن جس دن آپ واپس آو گے اس دن میں آپ سے اپنی ساری باتیں کرونگی۔ ان گیاراں سالوں کے وہ تمام لمحے جو میں نے آپ کے بغیر گزارے ہیں۔

آپ کو پتہ ہے۔۔۔؟ آج کل مجھے کتابوں سے دوستی ہوگئی ہے۔ مجھے پتہ ہے آپ کو یہ سُن کر خوشی ہوگی کیونکہ آپ کو بھی کتابوں سے بہت پیار تھا۔
آپ کو یاد ہے؟؟ آپ نے کتاب آرٹ آف وار کے اندر اپنے ہاتھوں سے ایک پھول رکھا تھا؟

پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ سیف اللہ رودینی کی کتاب جس میں اس نے ایک پھول رکھا ہے جو اب سوکھ چکا ہے۔

آپ یقین بھی نہیں کرو گے، وہ پھول آج تک اسی کتاب کے اندر رکھا ہے اور میں نے کتاب اور پھول دونوں سنبھال کر رکھے ہیں۔ جب آپ واپس آو گے تو میں آپ کو ضرور دکھاونگی۔

میں نے آپ کی تمام کتابیں حفاظت کے ساتھ رکھے ہیں۔ مجھے یقین ہے آپ ضرور واپس آو گے ہم پھر موسُمِ بہار کے رنگوں میں آسمان پر سفر کریں گے۔

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here