حزب اللہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کے حملوں میں اپنے دس شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے شمالی اسرائیل پر درجنوں راکٹ داغے ہیں۔
اقوام متحدہ نے غزہ میں اسرائیل کی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو خطرناک قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ اسے روکا جائے۔
اس سے قبل لبنان کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں عام شہریوں کی اموات کی تعداد بڑھ کر دس ہو گئی ہے۔ جب کہ گزشتہ روز کا حملہ چار ماہ سے زیادہ عرصے کی سرحد پار جھڑپوں میں ہلاکت خیزی میں سنگین تھا۔
اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس کی کارروائی میں عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کے ایک سینئیر کمانڈر علی دبس ہلاک ہوئے ہیں جو اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ سال اسرائیل کے اندر ایک حملے میں اہم کردار تھے، اور اسرائیل پر گزشتہ چار ماہ میں ہونے والے حملوں کی کمان بھی کر چکے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علی دبس کو بدھ کے روز لبنان کے جنوبی شہر نباتیہ میں ان کے نائب حسن ابراہیم عیسیٰ اور حزب اللہ کے ایک اور کارکن کے ساتھ کارروائی میں ہلاک کیا تھا۔
حزب اللہ نے تصدیق کی کہ ایک کمانڈر سمیت اس کے تین جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس نے بدھ کے حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا اور جمعرات کی شام حزب اللہ نے کہا کہ اس نے ابتدائی جوابی کارروائی کی ہے اور شمالی اسرائیل کے قصبے کریات شیمونا پر متعدد راکٹ داغے ہیں۔
اسرائیلی قصبے سے کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی جہاں بیشتر رہائشی ان ہزاروں افراد میں شامل ہو چکے ہیں جو اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے علاقہ چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔
جمعرات کو جنوبی لبنان میں مزید اسرائیلی حملوں کی رپورٹس ملیں اور لبنان کے نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی نے حملوں میں اضافے کی مذمت کی۔