بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گھرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ پانے ایک پریس ریلیز میں تربت میں پاکستانی فوج پر ایک حملے میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارے سرمچاروں نے تربت کے علاقے ڈنک میں قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا، جس سے دشمن فوج کے 2 اہلکار موقع پر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
انہوںنے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 8 فروری کو کیچ کے مرکزی شھر تربت کے علاقے ڈنک میں شاھی زئی پمپ کے قریب گھات لگاکر قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو بھاری اور جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے قافلے کے جس گاڑی کو نشانہ بنایا اس میں دشمن فوج کا ایک سینئر آفیسر بھی تھا، گاڑی میں سوار دشمن فوج کے 2 اہلکار موقع پر ہلاک اور تین زخمی ہوئے اور ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی 8فروری کو نام نہاد پاکستانی الیکشن کے دن ہوا تھا، لیکن دشمن نے اس دن انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک دونوں بند کیئے تھے، اسلئے یہ کارروائی رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس حملے میں پاکستانی فوج کے ہلاک شدہ فوجی کارندوں کے نام بھی سوشل میڈیا میں شائع ہوچکے ہیں جس میں سے ایک امیر، نظام پور کار رہنے والا ایک سہیل اختر اور ایک کا نام سیف الرحمن ہے جو اغضر خیل کا رہنے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ بلوچستان کی مکمل آزادی تک قابض پاکستانی فوج پر سرمچاروں کے حملے جاری رہیں گے۔