اسرائیل حماس حوالے اپنے عائد کردہ الزامات ثابت کرے، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ادارے UNRWA کے سربراہ نے اسرائیل کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کے ثبوت پیش کیے جانے کا مطالبہ کر دیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ اس عالمی ادارے کے ملازمین کے حماس کے ساتھ مبینہ تعلقات رہے ہیں اور وہ حماس کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے ان الزامات کے حوالے سے یو این آر ڈبلیو اے کے سیکرٹری جنرل فیلیپے لازارینی کے ساتھ بات چیت کی۔

لازارینی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ان الزامات کے پیش نظر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ اس عہدے پر فائز رہتے ہوئے اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ برسلز میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے ترقیاتی امداد کے وزراء کے ساتھ اپنی تنظیم کی ایک میٹنگ کی سربراہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ہم جب تک خدمات انجام دے سکتے ہیں، تب تک میں یہ سلسلہ جاری رکھوں گا۔‘‘

اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹس نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں لازارینی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ غزہ پٹی میں UNRWA کے ہیڈ کوارٹرز کے نیچے عسکریت پسند گروپ حماس نے ایک سرنگ بنا رکھی ہے۔

تاہم یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کسی سرنگ کا کوئی علم نہیں۔

لازارینی نے برسلز میں اس میٹٹنگ کے دوران کہا کہ بحیرہ روم کے کنارے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے اقوام متحدہ کے ادارے کی تقریباً 200 عمارتوں اور تنصیبات کو حماس اور اسرائیلی فوج دونوں نے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ UNRWA کی تنصیبات پر مبینہ حادثاتی گولہ باری میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لازارینی نے مزید کہا کہ حماس کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد اس کی تحقیق ضرور ہونا چاہیے۔

فرانس کی سابق وزیر خارجہ کیتھرین کولونا کی سربراہی میں ایک آزاد کمیشن اس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے UNRWA کے کاموں کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس کمیشن کی سفارشات پر مبنی رپورٹ اپریل کے وسط تک دستیاب ہو جانا چاہیے۔ UNRWA کے سربراہ لازارینی نے اعلان کیا کہ وہ رسک مینجمنٹ، ملازمین کی جانچ اور سنگین الزامات سے نمٹنے کے حوالے سے ان سفارشات کو فوری طور پر نافذ کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment