اقوام متحد ہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں الیکشن سے قبل ہراسمنٹ اور تشدد کتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
پاکستان میں جمعرات کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے پاکستانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ مکمل طور پر آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنائیں۔ اور جمہوری عمل کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں۔
جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ترجمان لِز تھروسل نے زور دیا کہ مکمل طور پر آزادانہ اور منصفانہ عمل کو یقینی بنایا جائے۔
الزبیتھ تھروسیل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے حقوق کا ادارہ خان کی پارٹی اور اس کے حامیوں کو "ہراساں کیے جانے، گرفتاریوں اور رہنماؤں کی طویل حراستوں کے ’پیٹرن سے” پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام اہل جماعتوں کو منصفانہ طور پر مقابلے میں شرکت کے قابل ہونا چاہیے۔۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے کہا، "پاکستان میں جمعرات کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے، ہم سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے خلاف تشدد کی تمام کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، اور حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک جامع اور بامعنی جمہوری عمل کے لیے لازم بنیادی آزادیوں کو برقرار رکھیں”۔
انہوں نے مزیدکہا کہ آنے والے انتخابات "پاکستان میں خواتین اور اقلیتی برادریوں بالخصوص احمدیوں کو درپیش رکاوٹوں کی یاددہانی بھی ہیں۔”
تھروسل نے کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین کی نمائندگی کے قانونی کوٹے کو پورا نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 22 فیصد نشستیں مخصوص ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتوں کے لیے علیحدہ ووٹر لسٹ کی وجہ سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشل نے پاکستان میں انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں انتخابی دفاتر کے باہر ہونے والے دو مہلک حملوں میں 24 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 30 روز کے دوران تشدد کے واقعات میں دو اُمیدوار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایمنستی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات سے قبل تشدد، پارٹی کارکنوں کو ہراساں کرنا اور من مانی گرفتاریاں تشویش کا باعث ہیں۔
بیان میں نگراں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ الیکشن والے دن انٹرنیٹ کی بندش، میڈیا پر پابندیاں اور احتجاج کے لیے اجتماع پر پابندیاں فوری طور پر ہٹائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نگراں حکومت سیاسی قیدیوں کو شفاف ٹرائل کے حق کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین پر عمل کرے۔