طالبان ڈالر کیلئے افغانستان میں امریکی فوج کا انخلا و موجودگی دونوں چاہتے ہیں، ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان میں امریکہ کے قیام کے خواہاں ہیں اور ہم کبھی وہاں جیتنے کے لیے نہیں لڑے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کو ہدفِ تنقید بنایا اور ایک ایڈیٹوریل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اخبار مجھ سے نہیں چاہتا کہ میں افغانستان میں متاثر کن انداز میں کام کروں۔”

صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی اس اخبار کو یہ سمجھائے کہ ہم افغانستان میں 19 برس سے ہیں اور اب وہاں فوجیوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز کے افغانستان سے انخلا سے متعلق طالبان دو رائے رکھتے ہیں۔

ا±ن کے بقول، طالبان امریکی فورسز کا انخلا بھی چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ غیر ملکی فورسز افغانستان میں ہی رہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈالرز کمائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کبھی بھی افغانستان میں جیتنے کی غرض سے نہیں لڑے، طاقتور فورس ہونے کے باوجود ہم افغانستان میں صرف پولیس فورس کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے رواں برس فروری میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت غیر ملکی فورسز افغانستان سے نکل جائیں گی۔ معاہدے کی رو سے طالبان افغان حکومت کے درمیان انٹرا افغان مذاکرات کے بعد سیاسی افہام و تفہیم کے ساتھ حکومتی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے ابتدائی نکات پر عمل درآمد ہوا ہی تھا کہ افغانستان میں دہشت گرد حملوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

افغان طالبان مسلسل افغان فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ معاہدے کے بعد سے ہونے والے متعدد حملوں میں درجنوں افغان اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ وہ افغان فورسز کے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment