بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں آج بروز پیرکو لاپتہ افراد لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی جس کی وجہ سے تمام کاروباری مراکز بندرہے ۔
ہڑتال کی کال بی ایس او کی جانب سے دی گئی تھی ۔ آل پارٹیز کیچ نے حمایت کی تھی۔
واضح رہے کہ ضلع کیچ کے دومقامات سامی اور ڈی بلوچ پر سی پیک شاہراہ پر لاپتہ افراد اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے گذشتہ ایک ہفتے سے دھرنا دیے بیٹھے ہیںجس سے تربت شہر بلوچستان بھرسے منقطع ہے ۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ سامی میں فورسز ہاتھوں لاپتہ 60 سالہ واحد بخش کولواحقین کے حوالے کرنے کے بعدسامی میں سیک پیک شاہراہ پر جاری دھرنا آج ختم کردیا گیاالبتہ دی بلوچ پر دھرناہنوز جاری ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی سے تنگ آ چکے ہیں اور ذہنی بیماری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم آئین و قانون کے ماتحت رہ کر پرامن طور پر ریاست کی قانون و آئین کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ ہمارے پیارے مجرم ہیں اور وہ سزا کے مستحق ہیں تو ریاست کو انہیں اپنے عدالتوں میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عدالتوں کے ذریعے انہیں سزائیں ملیں لیکن اس طرح کسی کو لاپتہ کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔