ماہرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیل منظم انداز سے عمارات تباہ کر کے غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان ایک بفرزون بنانے کی کوشش میں مصروف ہے، جس کا نقصان عام فلسطینی شہریوں کو ہو گا۔
اسرائیل نے عوامی سطح پر اس منصوبے کی تصدیق تو نہیں کی، تاہم لگتا یہ ہے کہ وہ غزہ پٹی جو پہلے ہی ایک نہایت چھوٹا سا اور بہت گنجان آباد علاقہ ہے، اس کا کچھ حصہ فلسطینی علاقے اور اسرائیل کے درمیان بفر زون کے لیے استعمال میں لایا جانا ہے۔ اسرائیل کے اتحادی کئی ممالک اسرائیل کو متعدد مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ وہ غزہ پٹی کے علاقے پر قبضے سے باز رہے۔
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے پروفیسر ادی بین نون کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک خاص طریقے سے غزہ پٹی کے سرحدی علاقے میں صفر اعشاریہ چھ میل (تقریباً ایک کلومیٹر) کے علاقے میں عمارات کو تباہ کیا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کا معائنہ کرنے والے اس اسرائیلی پروفیسر کے مطابق اس سرحدی علاقے کو ایک طرح سے بفر زون کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس جنگ میں غزہ پٹی میں مجموعی عمارات کا تقریبا تیس فیصد تباہ ہو چکا ہے۔
گزشتہ ماہ اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی کے قریب واقع اسرائیلی شہریوں کی محفوظ واپسی‘ کے لیے آپریشن کا اعلان کیا تھا۔ ایک فوجی بیان میں کہا گیا تھا کہ اس عسکری آپریشن کا مقصد اسرائیلی آبادی کو غزہ سے دور کرنا ہے۔ اس آپریشن میں اسرائیلی فوج نے اپنے اکیس اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی بتایا تھا۔
فوجی بیان میں کہا گیا تھا کہ اہلکاروں نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقے میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے عمارات کو تباہ کیا جب کہ اس دوران ان پر عسکریت پسندوں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔
ماہرین کے مطابق غزہ کے سرحدی علاقوں میں بسنے والے افراد کی بے گھری جنگ کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی مہاجرین کے حقوق سے متعلق ماہر نادیہ ہیرڈمن کے مطابق، ہمارے پاس ایسے شواہد بڑھتے جا رہے ہیں، جن سے لگتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے بڑے حصے کو ناقابل رہائش بنا رہا ہے۔