مودی حکومت کی آخری سالانہ بجٹ پیش،ٹیکس دہندگان کو کوئی رعایت نہیں دی گئی

0
39

بھارت میں عام انتخابات سے قبل مودی حکومت نے اپنی آخری سالانہ بجٹ پیش کردیا جس میں ٹیکس دہندگان کو کوئی رعایت نہیں دی گئی۔

بجٹ میں غریبوں، خواتین، نوجوانوں اور کسانوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے لیکن ٹیکس دہندگان کو کوئی راحت نہیں ملی۔

بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یکم فروری کو پارلیمنٹ میں مودی حکومت کا دسواں بجٹ پیش کیا۔

یہ عبوری اور مئی میں ممکنہ عام انتخابات سے قبل موجودہ حکومت کا آخری بجٹ بھی ہے، جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی مالیاتی پالیسیوں کے منصوبوں کے حوالے سے ایک اقتصادی منشور کے طورپر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

سیتا رمن نے اپنی تقریباً ایک گھنٹے کی بجٹ تقریر میں کہا کہ حتمی بجٹ نئی آنے والی حکومت پیش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سن 2047 تک بھارت ترقی یافتہ ملک کے خواب کو پورا کرنے کا اہل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ "گزشتہ دس سالوں میں بھارتی معیشت میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ سن 2014 میں ملک زبردست چیلنجز کا سامنا کررہا تھا۔ حکومت نے ان چیلنجز پر قابو پایا او رڈھانچہ جاتی سدھار کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ سال بے مثال ترقی کے سال ہوں گے۔”

حکومت آئندہ مالی سال میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر ریکارڈ 11.11ٹریلین روپے خرچ کرے گی تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ بھارت تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہو۔

نرملاسیتا رمن نے کہا کہ اگلے مالی سال کے لیے اخراجات کے لیے رقم میں موجودہ سال کے مقابلے میں 11.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

سیتارمن نے کہا کہ ان کی حکومت نے غریبوں، خواتین، نوجوانوں اور کسانوں کے حالات کو بہتر بنانے پر اپنی کوششیں مرکوز کررکھی ہیں۔ مہنگائی اور اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے کم آمدن گروپ کے لوگوں کو بالخصوص دیہی علاقوں میں نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے سرکاری پالیسی تھنک ٹینک،نیتی آیوگ، کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں 248ملین لوگوں کو کثیر جہتی غربت سے نکالا گیا ہے۔

سیتا رمن نے کہا کہ حکومت اگلے پانچ سالوں میں بیس ملین سستے مکانات تعمیر کرے گی اور متوسط طبقے کے لیے ہاوسنگ اسکیم شروع کرے گی۔

سیتارمن نے گرین گروتھ کے نام سے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا، جس کے ذریعہ حکومت گرین مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرنے اور اس شعبے کو مستقبل میں تعمیری میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے مالی سال 2024-25 میں اپنے مالیاتی خسارے کو 5.1 فیصد تک محدود کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here