بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے جیئند بلوچ نے میڈیا کوجاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں مغربی بلوچستان میں پنجابیوں کے قتل میں ملوثہونے کی خبروں کی تردید کردی ہے ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی، پاکستانی میڈیا ادارے جیو نیوز پر چلائے گئے ان خبروں کی تردید کرتی ہے، جن میں سراوان میں مارے جانے والے نو پنجابیوں کے قتل کی ذمہ داری بی ایل اے پر عائد کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں مغربی بلوچستان میں اس وقت تک بلوچ لبریشن آرمی کا نا کوئی کیمپ موجود ہے اور نا ہی کوئی سرمچار۔ ہم میڈیا اداروں کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ بی ایل اے سے جڑی خبروں اور ذمہ داریوں کیلئے، ہماری آفیشل چینل سے رجوع کریں۔
بی ایل اے ترجمان نے اپنے پریس ریلیز میں تنظیم کے ٹیلی گرام اور واٹس ایپ آفیشل چینل کے لنک جاری کریئے۔
آفیشل چینلز لنکس:
ٹیلی گرام: https://t.me/Hakalmediabot
وٹس ایپ: https://whatsapp.com/channel/0029VaDAtArKLaHsovHucz11
دوسری جانب ایران کے سیکیورٹی معاون گورنر سیستان بلوچستان نے کہا ہے کہ سروان میں پولیس فائرنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔ زخمیوں کے مطابق فائرنگ کرنے والے 3 افراد تھے، متاثرین کے اہلخانہ اور پاکستانی عوام سے گہری ہمدردی ہے۔
سیکیورٹی معاون کا مزید کہنا تھا کہ سیستان بلوچستان میں عدم تحفظ پیدا کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات مغربی بلوچستان کے سرحدی علاقے سراوان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 9 پاکستانیوں کوہلاک کردیا۔
رپورٹس کے مطابق فائرنگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے،ہلاک افراد مغربی بلوچستان میں ڈینٹنگ پینٹنگ کا کام کرتے تھے۔