بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں پاکستانی فورسز نے 10 سے زائد افرادکوجبری گمشدگی کا شکاربنایا ہے ۔
جبری گمشدگیوں کیخلاف آواز اٹھانے والی سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے ضلع ڈیرہ بگٹی میں فورسز ہاتھوں 10 سے زائد افراد کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں سے فورسز نے 10 سے زائد افراد کو غیر قانونی حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیاہے۔
لاپتہ کیےگئےافراد میں 6 کی شناخت ماسٹرغوث بخش ولد میران بخش بگٹی، رحیم داد ولد حاجی بگٹی، عطاء اللہ ولد گوھر خان بگٹی، فیصل ولد حنیف بگٹی، شاہ حسین ولد شاہ گل کے ناموں سے ہوگئی جبکہ دیگر کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔
بعض علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر مذکورہ افراد کو حراست میں لینے کے بعدجبری طور پرلاپتہ کردیاہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ماسٹرغوث بخش ولد میران بخش بگٹیجو جی ٹی اے کے ضلعی صدر اور جمہوری وطن پارٹی کے کارکن ہیں کوظفر کالونی سے فورسزنے چھاپہ مارکر حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
اسی طرح سوئی کے بازار میں رحیم داد ولد حاجی بگٹی اور رحیم داد ولد سوالی بگٹی کو بھی فورسز نے اس وقت حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جب وہ موسیٰ ہوٹل پر بیٹھےتھے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ عطاللہ ولد گوبر خان بگٹی کو سوئی کے جھکرا موڑ پر واقع ان کے گھر پرجبکہ فیصل ولد حنیف بگٹی اور شاہ حسین ولد شاہ گل بگٹی کو سوئی فیلڈ کے فینس میں لیبر کوارٹر سے چھاپہ مارکر حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا۔لیکن بعد ازاں فیصل ولد حنیف بگٹی اور شاہ حسین ولد شاہ گل بگٹی کو چھوڑدیاگیا۔
ذرئع کا کہنا ہے کہ سوئی میں ہی شاہ زین پمپ سے 3 افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا گیا جن کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی ہے۔