طیارے کو جان بوجھ کریا غلطی سے مار گرایا گیا، ہرصورت میں ایک جرم ہے، پیوٹن

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ماسکو اور کیف اس ہفتے کے شروع میں روس کے بیلگوروڈ کے علاقے میں ایک فوجی طیارے کو مار گرائے جانے کا الزام ایک دوسرے پر لگاتے رہے ہیں۔

اس طیارے میں مبینہ طور پر 65 یوکرینی جنگی قیدیوں کو روسی فوجیوں سے تبادلے کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔

طیارے پر عملے سمیت 74 افراد سوار تھے، جو سب کے سب ہلاک ہو گئے۔

جمعے کے روز روسی صدر ولادی میر پوٹن نے اپنی ایک ٹیلی ویژن تقریر میں اس واقعہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم انہوں نے طیارے کو جان بوجھ کر مار گرایا تھا یا ایسا کسی غلطی کی وجہ سے ہوا۔ تاہم جو کچھ بھی ہوا، ہر صورت میں یہ ایک جرم ہے۔

یوکرین نے جواباً یہ کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ روسی طیارے کو اس کی اپنی فوج نے ممکنہ طور پر غلطی سے کی گئی فائرنگ کا نشانہ بنایا ہو۔

پوٹن نے یوکرین کی جانب سے اس الزام کا جواب دیتے ہوئےجو غلطی سے کی گئی فائرنگ سے اپنا طیارہ گرائے جانے کے بارے میں تھا، کہا کہ روس اپنے طیارے کو غلطی سے کی گئی فائرنگ سے بھی نہیں گرا سکتا کیونکہ روس کے دفاعی نظام میں اپنے طیاروں پر حملہ کرنے سے روکنے کے حفاظتی انتظامات موجود ہیں اور آپریٹر جتنی بار چاہے بٹن دبا لے ہمارا فضائی دفاعی نظام اپنے طیارے پر فائر نہیں کرسکتا۔

پوٹن نے الزام لگایا کہ طیارے کو جس میزائل سے گرایا گیا وہ غالباً امریکہ یا فرانسیسی تھا۔ اس کا تعین یقینی طور پر دو تین روز میں ہو جائے گا۔

روس کی ریاستی تحقیقاتی کمیٹی نے جمعے کے روز بتایا کہ چادثے کی جگہ سے ملنے والے انسانی اعضا کی باقیات کی جینیاتی ٹیسٹنگ مکمل کر لی گئی ہے اور اسے یوکرین کی شناختی دستاویزات بھی مل گئیں ہیں۔

طیارہ گرنے کے مقام تک روس کے سوا کسی اور کو رسائی حاصل نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment