نیپال حکومت نے روس سے یوکرین کےخلاف لڑنے والے نیپالی شہریوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے ۔
جمعرات کو نیپال کے اعلیٰ ترین سفارت کار اور وزیر خارجہ نارائن پرکاش سود نے روس سے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف لڑائی کے لیے بھرتی کیے گئے نیپال کے سینکڑوں شہریوں کو واپس کرے اور تنازع میں ہلاک ہونے والوں کی باقیات ان کے وطن واپس بھیجے۔
نارائن پرکاش سود نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں کہا کہ”روسی فوج نے یوکرین میں لڑائی کے لیے نیپال کےاندازاّ 200 سے زیادہ شہریوں کو بھرتی کیا تھا اور ان میں سے کم از کم 14 وہاں ہلاک ہو چکے ہیں۔”
سود نے انٹرویو کے دوران کہا کہ،” ہم نے روس سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج میں نیپالی شہریوں کی بھرتی فوری طور پر روک دے، فوج میں پہلے سے خدمات انجام دینے والوں کو فوری طور پر واپس کرے، ہلاک ہونے والوں کی باقیات واپس بھیجےاور لڑائی میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرکے انہیں وطن واپس بھیجا جائے۔”
بیشتر نیپالی ہلاک ہونے والے اپنے عزیزوں کا مذہبی طریقے کے مطابق کریا کرم کرنا چاہتے ہیں۔
سود نے کہا کہ نیپال روس سے ان نیپالی شہریوں کے خاندانوں کے لیے زر تلافی بھی مانگ رہا ہے جو لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
روس نے کہا ہے کہ اس کے پاس مصدقہ طور پر ہلاک ہونے والے14 نیپالی شہریوں میں سے12 کی نعشیں موجود ہیں۔
سود نے کہا کہ ہمارے پاس یہ اطلاع ہے کہ ہمارے پانچ شہریوں کو جو روسیوں کی جانب سے لڑے تھے یوکرین نے قید میں رکھا ہوا ہے ۔ ہم روس سے کہہ رہے ہیں کہ وہ انہیں رہا کرانے کےلیے اقدامات کرے ۔