غزہ جنگ میں تقریباً ہر گھنٹے 2 ماؤں کی ہلاکت ہورہی ہے، اقوامِ متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ میں سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہوئے ہیں اور ان کی ہلاکتوں کی تعداد 16 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد سے شروع ہونے والی لڑائی میں تقریباً ہر ایک گھنٹے میں دو مائیں اپنی جان سے ہاتھ دھو رہی ہیں۔

یواین وومن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کو، جسے شروع ہوئے اب 100 سے زیادہ دن ہو چکے ہیں، کم ازکم 3000 ہزار خواتین بیوہ ہو چکی ہیں اور گھر کی کفالت اب ان کے کندھوں پر آ گئی ہے، جب کہ کم ازکم 10 ہزار بچوں کے سروں پر ان کے والد کا سایہ باقی نہیں رہا۔

جمعے کو جاری ہونے والی عالمی ادارے کی اس رپورٹ میں صنفی عدم مساوات اور جنگ سے جانیں بچانے کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ فرار ہونے والی خواتین پر بوجھ میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہیں بار بار بے گھر ہونا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23 لاکھ کی آبادی والے علاقے سے کم ازکم 19 لاکھ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے جس میں 10 لاکھ کے لگ بھگ خواتین اور لڑکیاں ہیں جو پناہ اور تحفظ کی تلاش میں ہیں۔

اقوام متحدہ کی خواتین کے امور سے متعلق ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس نے کہا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے سے قبل 15 سال کی لڑائیوں کے مقابلے میں اب صورت حال ظالمانہ حد تک الٹ ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل غزہ اور مغربی کنارے میں لڑائیوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں 67 فی صد مرد اور 14 فی صد سے بھی کم خواتین تھیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس کے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور 7 اکتوبر کو اسرائیل میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کی فوری رہائی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

Share This Article
Leave a Comment