بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام ‘مظلوم افراد کی بین الاقوامی کانفرنس’ کا آغاز ہوچکا ہے تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ آج پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے مختلف راستوں کو بند کردیا گیا۔
کانفرنس میں شرکت کیلئے آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور انٹرنیشنل مظلوم پیپلز کانفرنس میں بلوچ نسل کشی کے خلاف دھرنے کے منتظمین کی پروفائلنگ اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
مہمانوں اور آئی او پی سی کے شرکاءکو دھمکایا جا رہا ہے اور ان کو داخلے سے روکا جا رہا ہے۔ خاردار تاریں پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ لائی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں بی وائی سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمیں اپنے دھرنے پر پولیس کی طرف سے بھاری کریک ڈائون کا خدشہ ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ضمیر فروشوں سے گزارش ہے کہ اس وحشیانہ عمل کے خلاف آواز بلند کریں۔
بی وائی سی نے ویڈیو شیئر کیےجن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس کی نفری تعینات اور شرکا کو کیمپ کے اندر جانے نہیں دی رہی اور دھمکارہا ہے ۔
بی وائی سی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس براہ راست شرکا کو دھمکی دیتا ہے کہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لاٹھی چارج اورمزید لوگوںکو اغوا کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جیسا کہ وہ پہلے کر چکے ہیں۔ پرامن مظاہرین کی جانوں کو خطرہ ہے۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ بلوچ مظاہرین کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نیشنل پریس کلب میں پرامن مظاہرین کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکا رہی ہے۔ انٹرنیشنل مظلوم عوام کانفرنس کے موقع پر مختلف مقامات سے آنے والے مہمانوں کو پولیس نے روک کر ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔
شرکاء اور میڈیا کے عملے دونوں کو مسلسل پروفائلنگ اور ہراساں کیے جانے کا سامنا ہے، یہاں تک کہ ممتاز پروفیسرز کو بھی غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔