بلوچ نسل کشی کیخلاف گوادر، پسنی ، اورماڑہ ،جیونی، گڈانی، منگچر،تمپ ، مند و دشت میں عوامی قوت کا مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی کال پراسلام آباد دھرنے کی حمایت میں آج بروزمنگل بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی ، اورماڑہ ،جیونی، گڈانی سمیت منگچر،تمپ ، مند اور دشت میں بڑی تعداد میں عوامی طوفان کی شکل میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

پسنی

مظاہرین میں خواتین وبچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ریاستی فورسز کے ہاتھوں بلوچوں کی نشل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی اوراسلام آباد میں موجود مظاہرین سے انصاف کا مطالبہ کیا ۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مکمل حمایت اور جبری گمشدگی کے مخالفت کے حوالے سے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔

پسنی میں پریس کلب کے سامنے شروع ہونے والی احتجاجی ریلی ماشاءاللہ چوک سے گزرتے ہوئے جے ایس بینک کے سامنے جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔

منگچر

ریلی میں طلباء و طالبات، خواتین اور عوام کی بڑی تعداد نے شریک تھی۔

اسی طرح اورماڑہ میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مرد و خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کی حمایت آل پارٹیز اورماڑہ نے بھی کی تھی۔

ریلی کا آغاز فٹبال چوک سے ہوا جوکہ شہر کا چکر لگاتے ہوئے دوبارہ فٹبال چوک پہ آکر مظاہرہ کیا گیا۔

ریلی کے شرکاء نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل و غارت اور بلوچ نسل کشی کے خلاف نعرے لگائے۔

انہوں نے لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد دھرنے کے مطالبات کی حمایت کی۔

اورماڑہ

ضلع کیچ کے علاقے مند میں لوگوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔

خواتین سمیت سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بلوچستان میں ریاستی مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔

اسی طرح دشت کڈان میں خواتین، مردوں، بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ ایک زبردست ریلی نکالی گئی۔

ساحلی شہر گڈانی میں بھی ایک ریلی نکالی گئی، جس نے بلوچستان کے کونے کونے میں بلوچ نسل کشی کے خلاف تحریک کی وسیع رسائی کو اجاگر کیاگیا۔

دشت

آج جیوانی کے لوگ ریاست کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

شہید بلوچ رہنما بانک کریمہ کے علاقے تمپ میں بھی لوگ بلوچ نسل کشی کے نعروں ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔

علاوہ ازیں منگوچر میںبھی ریلی نکالی گئی جس میں زبردستی لاپتہ کیے گئے افراد کے اہل خانہ سمیت شرکاء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

آج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قوم کی محکومی کے خاتمے کے مطالبے کے لیے #MarchAgainstBalochGenocide کے ساتھ یکجہتی کے لیے آج لوگوں کا ایک طوفان نکل آیا۔

جیونی

بیان میں کہا گیا کہ مسلسل دھمکیوں اور اس کے شرکاء کو ہراساں کیے جانے کے باوجود یہ جدوجہد جاری ہے۔ اس تحریک کو طاقت اور تشدد سے نہیں ڈرایا جا سکتا اور یہ بلوچستان میں ریاست کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

بی وائی سی کا کہنا تھا کہ دور دراز مقام اور مواصلاتی خدمات کی عدم دستیابی سے قطع نظر، بلوچ عوام اب غیر انسانی اور نسل کشی کے خلاف تحریک ان تک پہنچتے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ آج، ان کے وجود کو خطرے میں ہونے کا احساس وسیع پیمانے پر ہے۔ بلوچستان کے چھوٹے بڑے ہر کونے سے لوگ #MarchAgainstBalochGenocide کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان کا اجتماعی پیغام واضح پختہ اور سیدھا ہےکہ بلوچ کی نسل کشی بند کرو۔

تمپ

بیان میں کہا گیا کہ #MarchAgainstBalochGenocide کی اس اجتماعی تحریک نے بلوچستان کو متحد کر دیا ہے۔ بلوچ عوام کے درمیان ایک پرعزم آواز گونج رہی ہے، جو اب نسل کشی کے واقعات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہاں تک کہ وہ علاقے جو طویل عرصے سے خاموش ہیں، اپنی خاموشی کو توڑ رہے ہیں، طاقتور نعرے #StopBalochGenocide سے گونج رہے ہیں۔ بلوچ قوم اب نسل کشی کی پالیسیوں اور جبر کو قبول نہیں کرتی اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطے میں، جہاں ہزاروں لاپتہ ہیں، لوگ اور یہ خاندان #MarchAgainstBalochGenocide کے ساتھ یکجہتی کے لیے متحد ہیں، طاقتور نعرے #StopBalochGenocide سے گونج رہے ہیں۔ ریاست کی جارحانہ پالیسیاں اور جاری بلوچ نسل کشی عوام کو مزید خاموش نہیں کر سکتی۔ آج یہ تحریک بلوچ عوام کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف متحد کرتے ہوئے ہر کونے میں پھیل چکی ہے۔

گڈانی

جیونی میں احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے بی وائی سی کا کہنا تھا کہ گوادر کے قریب ماہی گیروں کے ایک چھوٹے سے قصبے جیوانی کو 1987 میں پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں مقامی لوگوں نے بنیادی سہولیات اور پانی کے لیے احتجاج کیا تو محض احتجاج کرنے پر یاسمین سمیت دیگر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ بلوچ خواتین ہمیشہ سے مزاحمت، حوصلے اور جبر کی زنجیروں کو توڑنے اور وقار، انصاف اور حقوق کا مطالبہ کرنے کے عزم کی علامت رہی ہیں۔

آج جیوانی کے لوگ ریاست کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ #MarchAgainstBalochGenocide نے بلوچوں کے لیے امید کی ایک کرن روشن کی ہے اور برسوں سے محروم عوام کو ریاست کی دیرینہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور مسترد کرنے کے لیے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔

مند

بیان میں کہا گیا کہ آج بانک کریمہ کی آواز تمپ میں گونج رہی ہے، جہاں چھوٹے شہر کے لوگ #StopBalochGenocide کے نعرے لگانے سڑکوں پر نکل آئے۔

بلوچستان نے گزشتہ بیس سالوں میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور فوجی جارحیت کا مشاہدہ کیا ہے، جہاں ریاست کی نیم فوجی دستوں نے ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کے ساتھ بچوں، عورتوں، مردوں، جوانوں اور بوڑھوں پر مکمل استثنیٰ کے ساتھ تشدد کا استعمال کیا ہے۔ علاقوں کا دور دراز ہونا اور مواصلات اور میڈیا کی بندش اس کی رپورٹنگ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ لیکن، اس تحریک نے بلوچستان میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم سے پردہ اٹھایا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment