خضدار، نال ، ناگ ، گریشہ ، وڈھ اورڈھاڈر میں بلوچ نسل کشی کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف بلوچستان و پاکستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔

آج بلوچستان کے علاقے خضدار، نال ، ناگ ، گریشہ ، وڈھ اورڈھاڈر میںہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کیااوربلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

خضدار، نال ، ناگ ، گریشہ ، وڈھ اورڈھاڈر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی اورجبری گمشدگیوں کیخلاف نعرہ بازی کی ۔

مظاہرین کا کہنا تھا بلوچستان و پاکستان بھر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام جاری یہ عوامی قوت پاکستانی اشرافیہ کیخلاف ایک ریفرنڈم ہے ۔

بلوچ لواحقین لانگ مارچ کے اسلام آباد میں جاری دھرنے سے اظہار یکجہتی کیلئے وڈھ میں عوام کا سمندر امڈ آیا۔

وڈھ میں  احتجاجی ریلی میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

احتجاجی ریلی سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ نسل کشی اور ماورائے عدالت قتل کیخلاف آج عوام کا یہ سمندر ریاست سے انصاف طلب کررہا ہے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں جاری لواحقین لانگ مارچ دھرنے کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بلوچستان میں امن و امان قائم کیا جائے۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خضدار، نال ، ناگ ، گریشہ ، وڈھ اورڈھاڈر میں ہونے والے عوامی پاور کے تصاویر و ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاڈر، بولان ہمیشہ سے ان جگہوں میں شامل رہا ہے جہاں ظلم و ستم کے بھیانک چہرے تھے۔ ریاست کی جابرانہ سرکشی کی وجہ سے دھدر کے لوگوں کو خاموشی سے استبداد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لیکن خوف اور خاموشی کا دور اب ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ #MarchAgainstBalochGenocide محض چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت کرنے کے لیے آج ڈھاڈر میں بلوچ NPC، اسلام آباد میں پرامن مظاہرین کے خلاف بلوچ نسل کشی اور ریاست کے بیوقوفانہ ردعمل کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔

بلوچ نسل کشی کیخلاف بلوچستان بھر سے بلوچوں کے مطالبات بلند اور واضح ہیںاور پورا بلوچستان بی وائی سی کے بلوچ مارچ کے ساتھ کھڑا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ خضدار نے گزشتہ بیس سالوں کے دوران ریاستی جبر کی بدترین شکل کا تجربہ کیا ہے۔ چاہے وہ فوجی جارحیت ہو، معصوم جانوں کی جبری گمشدگی ہو، سیاسی کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل ہو یا ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ سکواڈز کے ذریعے دہشت پھیلانا ہو۔

بی وائی سی نے کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود آج عوام کی ایک بڑی تعداد ریاست کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنے سڑکوں پر نکل آئی۔ ریاست کی طرف سے مسلط کی گئی دہشت گردی اور جبر کے علاوہ بلوچوں نے اب بحیثیت قوم اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لیے کھڑے ہو جائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ نال کے لوگوں نے آج بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری تحریک سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نال چوک کی طرف مارچ کیا، جس کے بعد گریشا کے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے جہاں انہوں نے ایک مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ بلوچ بحیثیت قوم ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و جبر کے خلاف متحد ہیں۔

بی وائی سی نے ناگ کے احتجاجی مظاہرے کے فوٹیجز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم پرستی اور شعور میں تیزی آتی ہے۔ جیسا کہ بلوچستان کے تمام علاقوں میں لاتعداد لوگ مظاہرے کر رہے ہیں اور بلوچ نسل کشی کے خاتمے کے لیے نعرے لگا رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آج بچے، بزرگ، خواتین اور نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرہ کیا۔ بلا شبہ لوگوں کو زبردستی لاپتہ کیا گیا، قتل کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ہجرت پر مجبور کیا گیا، اس کے باوجود بلوچ عوام بلوچستان میں ریاستی مظالم کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

بی وائی سی نے گریشا میں احتجاجی مظاہروں کی تصاویر و ویڈیوزشیئر کرتے ہوئے کہا کہ گریشا کے لوگ جمع ہوئے اور کاروں اور بائک کے ساتھ نال وڈھ کی طرف ایک ریلی میں مارچ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دبے ہوئے عوام ریاستی مظالم سے تنگ آچکے ہیں اور وہ ان کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمارے عوام کا یہ عزم قابل تعریف ہے۔

واضع رہے کہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری بی وائی سی کی تحریک کو 53 دن مکمل ہوچکے ہیں۔

بی وائی سی قائدین کا کہنا ہے کہ جرات مندانہ جدوجہد کی تاریخ رکھنے والی بلوچ خواتین ناانصافی اور جبر کے خلاف لڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بہادر بلوچ خواتین کی قیادت میں یہ تحریک کامیابی کے لیے تیار ہے، جو نہ صرف بلوچوں بلکہ دنیا بھر کی نسلوں کے لیے تاریخ رقم کر رہی ہے۔ ہم دنیا بھر کی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور ظلم کو ختم کریں۔

Share This Article
Leave a Comment