پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے گھرپر خفیہ اداروں کا حملہ ،بیٹے وبھتیجے پر تشدد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
فوٹو: ایکس

پاکستان سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر نے عدالت میں کہا کہ ابھی مجھے خبر ملی ہے فیملی پر حملہ ہوا، اس کے بعد بیرسٹر گوہر عدالت سے روانہ ہوگئے۔

بیرسٹر گوہر نے علی ظفر سے گفتگو میں کہا کہ میرے بیٹوں اور بھتیجوں کو مارا جا رہا ہے، ابھی مجھے خبر ملی ہےکہ میری فیملی پر حملہ ہوا ہے، ابھی گھر سے خبر آئی ہےچار ڈالے آئے تھے،کمپیوٹر اٹھالیا گیا،میرے بیٹے اوربھتیجے کو مارا پیٹا گیا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو بھی ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب، اگر ایسا ہواہے تو ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں۔

بعد ازاں بیرسٹر گوہر سپریم کورٹ میں واپس آگئے تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ گوہر صاحب کیا پوزیشن ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حالات بہت سنگین ہیں، چار ڈالوں میں لوگ میرے گھر آئے،کسی پر اعتماد نہیں ہے، عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ابھی معاملے کو طےکریں، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اور آئی جی سے بات ہوئی ہے وہ معلوم کررہے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ پہلے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کوبتائیں،اگر بات نہ سنی جائے تو عدالت کو آگاہ کریں، اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اب تو حد سے بھی تجاوز ہوگیا ہے۔

چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم ایس ایچ او تو نہیں ہیں، اگر ہم اس معاملے کو حل نہ کرسکیں تو آپ ہمیں کہیے گا۔

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کے گھر چھاپے کی انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اسلام آباد سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔

وقفے کے بعدسپریم کورٹ میں پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئی جی کو بھیجا تھا۔

وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ یہ تو اچھی بات ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آئی جی اسلام آباد عدالت میں موجود ہیں؟ علی ظفر نے بتایاکہ آئی جی اسلام آباد آئے تھے شاید باہر گئے ہیں آجائیں گے۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ پولیس ان کے گھر کیوں گئی تھی؟

آئی جی نے جواب دیا کہ پولیس کو اطلاع ملی کہ اشتہاری ملزم وہاں گئے ہیں لیکن جب علم ہوا گھربیرسٹر گوہر کا ہے توپولیس پارٹی واپس چلی گئی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آپ تحریری رپورٹ داخل کریں یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور آپ بیرسٹر گوہر کے گھر خود جائیں۔

Share This Article
Leave a Comment