لیاری میں 300 سے زائد احتجاجی شرکاء پر مقدمہ درج، 15 افراد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری دھرنا مظاہرین کیساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر لیاری کے احتجاجی شرکاء پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور 15 افراد گرفتار کر لیے گیے ہیں۔

واضع رہے کہ گذشتہ روز جمعہ کوبلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر ملک گیر احتجاجوں کے سلسلے میں لیاری میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے گھروں سے نکل کریکجہتی ریلی نکالی اور اسلام آباد دھرنے کیساتھ اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیاتھا ۔

ہمیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق لیاری پولیس نے مظاہرین پر ایف آئی آر درج کرتے ہوئے ان پر مشتعل ہونے، بلوا و پتھراؤ کرنے، روڑ بلاک جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق 15 مظاہرین پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ دیگر 300 سے زائد خواتین سمیت 150 مردوں کو صورت شناخت کی بنا پر ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ملیر اور لیاری سے بلوچ خواتین اور بچوں کو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کھڑے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے لیاری اپنے تمام متنوع اظہار میں بلوچ قوم پرستی کا فکری مرکز بنا ہوا ہے۔ کراچی پولیس نے جمعہ کو لیاری کے پرامن رہائشیوں کے ساتھ جس طرح سلوک کیا اور انہیں حراست میں لیا وہ قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں جلد ہی اس بدسلوکی کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کو لکھ رہا ہوں۔ ہم سب مل کر بلوچستان میں حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ساتھ دیں اور اس ناانصافی کے خلاف ہماری جدوجہد کو مضبوط کریں۔ شکریہ لیاری۔ شکریہ ملیر۔

Share This Article
Leave a Comment