بطور عورت میرے نقاب لگانے کے فیصلے کو کمزوری سمجھا گیا،سمی بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

نازیبا ریاستی پروپیگنڈے کے بعد سمی دین بلوچ نے اپنا نقاب اتار دیاہے ۔

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کامیاب تحریک سے ریاست کی بوکھلاہٹ انتہا تک پہنچ گئی ہے جوتحریک کو سبوتاژ کرنے کیلئے اپنی تمام تر حربوں میں ناکامی کے بعد اب بلوچ خواتین کے ننگ و ناموس پرحملہ آور ہے اورن کیخلاف نازیباوغلیظ حرکتوں پر اترآیا ہے ۔

گذشتہ روز اسٹیبلشمنٹ نے فوٹو شاپ کے ذریعے بلوچ خواتین کی نازیبا وغیراخلاقی ایڈٹ کردہ تصاویرجاری کرکے انہیں بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کی جس پر دھرنا مظاہرین کی قائد سمی دین بلوچ نے ریاستی حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنا نقاب اتار دیاہے۔

مائیکر و بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر سمی دین بلوچ نے ریاست کی اس گری ہوئی حرکت پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کل کی دو ٹوک جواب کے بعد میری Fabricated pictures کی بنا پر مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے میرے خلاف نازیبا اور غلیظ پروپیگنڈہ مہم جاری ہے۔

سمی بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ دور گزر گئے جب کسی عورت کو خاموش کرنے اور اسکی آواز دبانے کیلئے اسکی پرائیوسی پر بلیک میلنگ اور کردار کشی کا حربہ استعمال کیا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بلا شبہ یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا کہ میں نقاب میں میڈیا کے سامنے آؤنگی لیکن چند لوگوں نے بطور عورت اس چیز کو میری کمزوری سمجھ لیا ہے ۔

سمی دین بلوچ نے مزید کہا کہ اس جدوجہد میں ہم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ بہت کچھ داؤ پر لگایا ہے مگر اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں انکو اور انکے پالنے والوں کو مبارک ہوں۔

دوسری جانب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بھی ریاست کی اس غیر اخلاقی اور بلیک میلنگ عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ میرے پیارے دوست سمی دین بلوچ، مضبوط اور بہادر رہو۔

انہوں ے کہا کہ ریاست اور اس کی کٹھ پتلیوں کو ایک خاتون کارکن کی تصویر ایڈٹ کرنے اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے پر شرم آنی چاہیے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ریاست ہماری خواتین کارکنوں کو تشدد، گرفتاری اور دھمکیوں کے ذریعے خاموش نہیں کر سکی۔ اب وہ خواتین کی تصاویر کو ایڈٹ کرکے پروپیگنڈہ کرنے کا سہارا لیتے ہیں لیکن یہ پروپیگنڈہ اب نہیں چلے گا۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ہماری خواتین کارکنوں کو خاموش نہیں کیا جا سکے گا۔

واضع رہے کہ اسلام آباد میں بلوچ لاپتہ افراد کے مدمقابل ریاستی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ اکارندوں پرمشتمل قائم کی گئی کیمپ سے بلوچ خواتین و بچوں کو شدیدتھریٹ و ہراسمنٹ کا سامنا ہے ۔

مذکورہ کیمپ کے قیام سے لاپتہ افراد لواحقین نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ہماری تحریک کو سبوتاژ کرنے کیلئے اس کیمپ کو قائم کیا گیا ہے جس سے ہماری جان اور ننگ و ناموس خطرے میں ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment