بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سوشل میڈیا کمپین "میں بلوچ مارچ کے ساتھ کھڑا ہوں”سے پوری دنیا جڑ رہی ہے ۔
بی وائی سی نےگذشتہ روز #IStandWithBalochMarch ہیش ٹیگ سے ایک کمپین کا اعلان کیا تھا۔
اپنے پوسٹ میں بی وائی سی نے کہا کہ ہم پوری دنیا کے باضمیر لوگوں سے اور خاص طور پر پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ مارچ کے ساتھ یکجہتی کی اس مہم میں شامل ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام پرامن ذرائع سے نسل کشی کو منظم اور مزاحمت کرتے ہوئے ایک طویل عرصہ ہو گیا ہے۔ بلوچ مارچ اور اس کے شرکاء کے خلاف ایک منظم غلط معلومات اور انٹرنیٹ سنسر شپ مہم شروع کی گئی ہے۔
اس نازک صورتحال میں ہماری فوری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم غلط معلومات کا مقابلہ کریں، نقصان دہ بیانیہ کو تبدیل کریں، اور بلوچ نسل کشی کو روکیں، بشمول ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کو روکیں۔
مزید کہا کہ ہم دوستوں، ساتھیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور اپنے جیسے اچھے لوگوں تک سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیو کلپس کے ذریعے اپنے خیالات کا اشتراک کرکے مدد کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ہم براہ راست وسائل اور ان لوگوں کی کہانیاں بانٹیں گے جو ہمارے دھرنا کیمپ کا دورہ کر رہے ہیں اور اس بحران کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ #IstandWithBalochMarch کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرکے اپنے خیالات کا اظہار کرے۔
اس اعلان کے بعدپوری دنیا بی وائی سی کی بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری احتجاجی دھرنے سے اظہار یکجہتی کیلئے ویڈیو کلپس کے ذریعے تحریک سے جڑ رہی ہے ۔
اب تک بلوچستان وپاکستان سمیت دنیا بھر سے مختلف اقوام کے لوگوں ، سوشل ،ہیومن رائٹس وکلائمیٹ جسٹس اکٹیوسٹ،سیاسی کارکنان،وکلا، صحافی وڈاکٹرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے اپنے ویڈیو پیغام جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ بلوچ مارچ سے اظہار یکجہتی کیلئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔