بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور رئیسانی قبیلہ کے نواب اسلم رئیسانی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دھرنا کیمپ کے سامنے شہدا کے نام سے ریاستی کیمپ کے قیام پر کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کی مہم کو سبوتاژ کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لاپتہ افراد کے بحفاظت بازیابی کی سو فیصد ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے …!
نواب رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے campaign کو sabotage کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیںوہ اپنے آقاؤں کے اِشاروں پہ ناچ رہے ہیں، ہم اِن عناصر کی پُرزور الفاظ سے مذمت اور نفرت کرتے ہیں۔
واضع رہے کہ رئیسانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے جمال رئیسانی اور فرید رئیسانی جو اسٹیبلشمنٹ کے خاص ٹائوٹ ہیں کی سربراہی میں شہدا کے نام سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد مظاہرین کے کیمپ کے مد مقابل ایک کیمپ قائم کیا گیاہے اور ڈیتھ ا سکواڈ سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ بلوچ لاپتہ افراد فیملی کوتھریٹ کر رہے ہیںکہ دھرنا ختم کریں ۔