پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری دھرنا مظاہرین سے یکجہتی کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر تربت میں ریلی نکالی گئی اور فدا شھید چوک پر مظاہرہ کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی کال پر سلسلہ وار احتجاجی ریلیوں کے سلسلے میں پیر کی صبح شھید بالاچ مولا بخش چوک آپسر سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کے زیر اہتمام ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں خواتین اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
شرکا نے لاپتہ افراد کے تصاویر اور ریاستی مظالم کے خلاف احتجاجی نعروں پر مبنی بینرز اٹھائے مین روڈ آپسر سے مارچ کرتے ہوئے مرکزی شھید فدا چوک پر آکر مظاہرہ کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم کے سابق رہنما عصا ظفر، سیاسی کارکن سھتی بلوچ، نازل بلوچ، رضوانہ، حق دو تحریک کے رہنما صادق فتح اور یعقوب کوہی نے کہا کہ بلوچستان پر جو مظالم بڑھائے گئے، ہزاروں افراد کو ماورائے آئین و عدالت اغوا اور قتل کیا گیا اس کے خلاف بلوچ سراپا احتجاج ہیں، جب ہم نے انصاف کے لیے شھر اقتدار جاکر اپنی مظلومیت پہنچانے کی کوشش کی تو ہم پر قہر ڑھاکر یزیدیت کی مثال قائم کی گئی، ہمارے دو سالہ بچوں سے لے پچاسی سالہ ماں اور بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بناکر گرفتار کیا گیا، ان پر زندانوں میں بدترین مظالم ڑھاکر یہ احساس دلایا گیا کہ اس ریاست میں بلوچ صرف مرنے کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے لاپتہ پیاروں کی رہائی و بازیابی کے لیے انصاف کا حصول ہے، ہم انصاف کے لیے دربدر ہیں ہمیں صرف انصاف چاہیے اس کے علاوہ ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے پیاروں کو بازیاب کرکے ہمیں انصاف نہیں دیا جاتا اسلام آباد میں ہمارا دھرنا جاری رہے گا اور پورے بلوچستان میں ریلی اور مظاہرے بھی ہوتے رہیں گے۔