ہم ڈاکٹر ماہ رنگ کی قیادت میں بلوچ عوام کیساتھ کھڑے ہیں، کشمیری وفد کا دورہ دھرنا کیمپ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے وفد نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری احتجاجی دھرناکیمپ میں شر کت کرکے شرکا کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین طاہر بوستان ایڈوکیٹ،سابق چیئرمین ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ،وائس چیئرمیناسلم وطنوف،راولپنڈی برانچ کے صدر رضوان رشید،جنرل سیکرٹری احسان تصدق،سیکرٹری نشرواشاعت طاہر نذیر،سردار شفیق احمد،کامریڈ اعجاز،اصغر علی مبارک ایڈووکیٹ،جمیل بھٹی وفد میں شامل تھے۔

اس موقع پر جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے سابق چیئرمین ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی بالخصوص ریاست کے محنت کشوں کے حقوق اور بالعموم پاکستان اور پوری دنیا کے محنت کش طبقہ کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے حصول اور جبری گم شدہ ہزاروں سیاسی کارکنان کی بازیابی کی جدوجہد میں انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ھمارے اور آپکے دکھ و درد سانجھے ہیں۔ اور دشمن بھی ایک ہی ہیں اس لیے ھمیں آپس میں ملکر و اتحاد پیدا کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ 14اگست 1947 کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں تھا بعد ازاں ھماری ریاست جموں کشمیر کی ہی طرع فوج کشی کرتے ہوئے جبری طور پر قبضہ کیا گیا۔ بلوچستان کا رقبہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار مربع میل ہے اور قدرتی و معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے جبکہ وہاں چند گنتی بھر نوابوں کے علاؤہ ہر سو غربت و افلاس کے گھر گھر ڈیرے ہیں۔ اپنے بنیادی انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے ہزاروں سیاسی کارکنان کو اٹھا لیا گیا ہے نہ جانے وہ زندہ ہیں یا انکی لاشیں جنگلی جانور کھا چکے ہیں اور ان گنت افراد کی مسخ شدہ لاشیں انکے لواحقین کے حوالے کی گئ ہیں یہ ریاستی جبر ظلم بربریت تین دھائیوں سے جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کئی بار بلوچستان پر مسلح فوجی چڑھائی بھی کی گئی ۔ جس میں کئی سرکردہ رہنماؤں کو تہہ و تیغ کر دیا گیا۔ ایک سیاسی کارکن کو تیار کرنے کیلئے نظریاتی سیاسی پارٹی کو نہ جانے کتنی محنت و مشقت و جتن کرنے پڑتے ہیں اور جہاں ہزاروں سیاسی کارکنان کا جبری اٹھا کر غائب کر دیا تو یوں سمجھیں کہ آپ نے ایک پوری نسل کی بربادی کا ساماں پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے چایئے تو یہ تھا کہ جب آپ ہزاروں کی تعداد میں خواتین بلوچستان سے اسلام آباد میلوں سفر طے کرتے ہوئےاپنے جائز حقوق کیلئے آئی ہیں تو ریاست آپکو تسلی و تشفی دیتی۔ دلاسہ دیتی اور آپکے مطالبات کو حل کرنے کی یقین دہانی کرواتی جبکہ اسکے برعکس طبقاتی ریاست نے آپکو گرم کپڑے، بستر، کھانا پہنچانے پر بھی پابندی لگا دی۔ جس عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کے ایک فلاسفر کا قول ہے کہ کئی بھی ریاست جب اخلاقی، سیاسی و معاشی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہوتی ہے اور کمزور ہوتی ہے تو وہ حد درجہ ظالم، وحشیانہ و جابرانہ عمل کا استعمال کرتی ہے اور آج پاکستانی ریاست انہی مراحل سے گذر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پہاڑوں، جنگلات، چشموں، دریاؤں، شہروں کا ہر گز نام نہیں ہے۔ ریاست عوام ہوتے ہیں اور جب عوام بے چین، مایوس اور ریاست سے لاتعلق ہو جاتے ہیں تو ایسی ریاستیں قصہ پارینہ بن جایا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عظیم دانشور مولانا ابوالکلام آزاد کو علی گڑھ یونیورسٹی میں کچھ ترقی پسندانہ سوچ کی حامل طلبا تنظیموں نے ایک سیمینار میں دعوت دی تو جونہی مولانا تقریب میں پہنچے تو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کچھ طلبا نے انکے منہ پر نفرت سے تھوکا۔ مولانا کی میزبان تنظیموں کے کارکن ان پر حملہ اور ہونے لگے تو مولانا نے انہیں روکا اور کہا کہ متحدہ ہندوستان کو انگریز سامراج کی سازش سے جو ایجنٹ تقسیم کرتے ہوئے مذھبی نفرت کی آڑ میں ملک بنانے جا رہے ہیں وہاں مستقبل میں ایسی ہی نفرت پلے گی۔ اور آج پون صدی کے بعد پاکستان کے سیاسی حالات مولانا کی مستقبل کی تصویر کشی پر سو فیصد منطبق ہو رہے ہیں۔ بہرحال ھم نہ صرف بلوچ بلکہ سندھی، پشتون، سرائیکی، و پنجابی مظلوم و محکوم عوام کی جدوجہد میں انکے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

پارٹی چیئرمین طاہر بوستان ایڈووکیٹ نے کہا کہ پی این پی کی گئ بنیاد ہی محنت کش طبقہ کے حقوق ک گئے حصول اور قومی جمہوری انقلاب برپا کرنے کیلئے رکھی گئی تھی اور ھم مشکل ترین حالات کے باوجود انہی عظیم آدرشوں کیلئے مصروف جدوجہد ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے گرم جوشی سے استقبال کیا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ جموں کشمیر کے عوام بھی ھماری طرع ہی مظلوم و محکوم ہیں او ھم سب ملکر ان بالادست طبقات کیخلاف جدوجہد کریں جنہوں نے نہ صرف ھمیں جبری طریقے سے غلام بنا رکھا ہے بلکہ ھمارے وسائل کی بھی بیدردی سے لوٹ کھسوٹ کر رہے ہیں۔ جو پاکستانی حکمران ٹولہ پاکستان کے عوام کے دکھ درد کو نہیں جان پایا اور انکے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہے وہ آپ جموں کشمیر کے عوام کا کیونکر خیر خواہ ہو سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment