صادق سنجرانی نے لاپتا افراد کا بل غائب کیا، پاکستانی سپریم کورٹ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاپتا افراد، جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتا نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاپتا افراد اور جبری گمشدگیوں سے متعلق کیس کا حکمنامہ جاری کردیا جسے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسٰی نے تحریر کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتا نہ کرنے کی یقین دہانی مانگتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت تحریری یقین دہانی عدالت میں جمع کرائے۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ کسی بھی شہری کو قانون سے ماورا نہیں اٹھایا جائے گا۔

حکم نامے کے مطابق لاپتا افراد کا بل صادق سنجرانی نے غائب کیا، عدالت کو بتایاگیا لاپتا افراد سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

الزم عائد کیا گیا کہ لاپتا افراد کا بل صادق سنجرانی نے غائب کیا۔ عدالت صادق سنجرانی کا موقف تب تک نہیں لے سکتی جب تک وہ کیس میں فریق نہ بنائے جائیں۔ لاپتا افراد کمیشن 10 روز میں اپنے کوائف سے متعلق تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرائے۔

کیس کی سماعت عدالت کی طلب کردہ دستاویز جمع کرانے کے بعد ہوگی۔ سپریم کورٹ نے بلوچ مظاہرین کے کے پرامن احتجاج پر پولیس کو ناروا سلوک سے روک دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے بیان حلفی طلب کر لیا، کسی شہری کو ماورائے قانون نہیں اٹھایا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران تحریری یقین دہانی دیں۔ وفاقی حکومت حلف دے کسی کو غیر قانونی نہیں اٹھایا جائے گا۔

نوٹس میں لایا گیا کہ عدالتی چھٹیوں میں بلوچ مظاہرپن پر پولیس نے تشدد کیا۔ عدالت پرامن مظاہرین پر کسی بھی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دیتی۔ پرامن احتجاج بنیادی حق ہے۔ عدالت فیض آباد دھرنا فیصلے میں پرامن احتجاج کا حق واضح کرچکی ہے ۔ سپریم کورٹ کا رجسٹرار لاپتا کمیشن کو لاپتا افراد کے کوائف جمع کرانے کی ہدایت۔

حکمنامے میں اسلام آباد میں احتجاج کرنے والوں سے پولیس کے ناروا سلوک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمارے علم یں لایا گیا کہ عدالتی چھٹیوں میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا، یہ عدالت اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیتی ہے کیونکہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے۔

سپریم کورٹ نے پولیس کو اسلام آباد میں پرامن احتجاج کرنے والوں پر پولیس کو ناروا سلوک سے روک دیا۔

واضح رہے کہ نئے سال کے پہلے دن سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاپتا افراد و جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے دو جنوری کو مقدمے کی سماعت کی تھی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ بہت ضروری اور اہم کیس ہے، یہ مسئلہ حل ہوگا جب ہم سب مل کر کریں گے، اس مقدمے کو سیاسی نہ بنائیں کیونکہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ اعتزاز احسن کی درخواست میں سیاست جھلک رہی ہے، سب ذمہ داری قبول کریں، پاکستان کو اندرونی طور پر مضبوط کرنا ہے، اب اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔

اس کیس کی 3 جنوری کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار آج والوں تو نہیں ٹھہرا سکتے، ہم مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر جواب دینا چاہیے، کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تمام پروڈکشن آرڈر بارے تفصیلی رپورٹ دیں، لاپتہ افراد کیس میں ذاتی مسئلے نہیں سنیں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے وزیرستان میں 6 حجاموں کے قتل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا قتل کرنے والے کو خدا کا خوف نہیں ہوتا؟ 6 نائی قتل کر دیے گئے لوگوں کو خوف ہی نہیں ہے، قتل کرنے والے یہاں سزا سے بچ سکتے آخرت میں تو جواب دینا ہوگا، بلوچستان میں 46 زائرین کو مار دیا جاتا ہے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت 9جنوری تک ملتوی کردی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment