سعودی عرب کو کئی بلین ڈالر مالیت کے میزائل فراہم کئے، پینٹاگون

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکا نے اپنے روایتی اتحادی اور ہتھیاروں کے بڑے خریدار ملک سعودی عرب کو کئی بلین ڈالر مالیت کے میزائل فراہم کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکا مشرق وسطی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کی مدد کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو سعودی عرب کے لیے میزائل تیار کرنے کے دو مختلف کانٹریکٹ دیے گئے ہیں۔ کئی بلین ڈالر مالیت کے ان معاہدوں کے تحت بوئنگ کمپنی ریاض حکومت کو فضا سے زمین پر اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے اور بحری جہاز شکن میزائل فراہم کرے گی۔

اس بارے میں پینٹاگون کے بدھ کی شب جاری کردہ بیان میں مطلع کیا گیا ہے کہ پہلے معاہدے کی مالیت 1.97 بلین ڈالر ہے۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو ساڑھے چھ سو نئے ‘سلیمر‘ (SLAM ER) طرز کے کروز میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ یہ میزائل جی پی ایس کی مدد سے فضا سے زمین پر اپنے اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔ ‘سلیمر‘ تقریباً تین سو کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کی شرائط کے تحت ‘سلیمر‘ کروز میزائل کی ریاض حکومت کے پاس موجودہ کیپ کو بھی جدید تر بنایا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت میزائلوں کی فراہمی سن 2028 تک مکمل ہونی ہے۔

پینٹاگون نے ساڑھے چھ سو ملین کے ایک اور معاہدے کی بھی تصدیق کی ہے، جس کے تحت ‘ہارپون بلاک دوئم‘ طرز کے بحری جہاز شکن 467 میزائل تیار کیے جانے ہیں۔ ان میں چار سو سے زائد سعودی عرب کو فراہم کیے جائیں گے جبکہ دیگر برازیل، قطر اور تھائی لینڈ کو۔ ‘ہارپون بلاک دوئم‘ کا ساز و سامان بھارت، جاپان، ہالینڈ اور جنوبی کوریا کو دیا جائے گا۔

امریکی محکمہ دفاع نے ایک مختلف بیان میں یہ بھی بتایا ہے کہ یہ نئے معاہدے سلیمر‘ (SLAM ER) طرز کے کروز میزائلز کی تیاری دوبارہ شروع کرنے اور ہارپون بلاک دوئم‘ طرز کے بحری جہاز شکن میزائلز کی تیاری کے پروگرام کو سن 2026 تک لے جانے کا باعث بنیں گے۔ دونوں معاہدوں کی مجموعی مالیت 3.1 بلین ڈالر ہے۔ پینٹاگون نے یہ بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کو ان میزائلز کی فراہمی اس کی حمایت جاری رکھنے کا ثبوت ہے۔

Share This Article
Leave a Comment