فلسطینی علاقے غزہ میں جنگ کے بعداس کا مکمل کنٹرول اسرائیل کے پاس رکھنے کا منصوبہ زیر غورہے ۔
اس سلسلے میں اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ میں مستقبل کی حکمرانی سے متعلق کُچھ تجاویز کے ساتھ ایک خاکہ پیش کیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع کی جانب سے پیش کیا جانے والے خاکے کے مطابق اس علاقے میں فلسطینیوں کی حکمرانی محدود کر دی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ غزہ کا نظم و نسق اس جنگ کے بعد حماس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس علاقے سے متعلق تمام تر معاملات کی نگرانی اسرائیلی انتظامیہ خود کرے گی۔
اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے ’فور کارنر‘ منصوبے کے تحت اسرائیل غزہ کا مجموعی سکیورٹی کنٹرول اپنے پاس رکھے گا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد ایک اسرائیلی انتظامیہ علاقے میں بحالی اور تعمیرِ نو کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
اس منصوبے کے تحت ہمسایہ ملک مصر کو بھی ایک غیر واضح کردار ادا کرنا ہوگا۔
لیکن دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی اس علاقے کو چلانے کے ذمہ دار ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ غزہ کے باشندے فلسطینی ہیں اس لیے وہ ہی فلسطینی اداروں کے چلانے کے ذمہ دار ہوں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب سے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ یہ سب اُس صورت میں مُمکن ہو سکے گا کہ اس علاقے سے دوبارہ اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی یا دھمکیاں سامنے نہیں آئیں گے۔
کابینہ کے اجلاس میں اس منصوبے پر تفصیل سے بات نہیں کی گئی اور اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نتن یاہو نے عوامی طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اجلاس تلخی کی وجہ سے قبل از وقت ختم ہو گیا۔