دنیا کے متعدد ممالک کے 140 سیاستدانوں، قانون دانوں، طبی ماہرین، سماجی رہنماو¿ں اور معاشی ماہرین نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا کی ویکسین کی تیاری کے بعد اسے دنیا بھر کے لیے مفت کیا جانا چاہیے۔
دنیا کے امیر و ترقی یافتہ ممالک سمیت ترقی پذیر ممالک کے سابق حکمرانوں و حالیہ حکمرانوں سمیت غریب ممالک کے حکمرانوں، معاشی و اقتصادی ماہرین، سماجی رہنماو¿ں، پالیسی میکرز، عالمی قوانین و انسانی حقوق کے رہنماو¿ں سمیت تعلیمی ماہرین نے عالمی ادارہ صحت کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس پر 140 رہنماو¿ں نے دستخط کیے ہیں۔
مذکورہ خط کو تیار کرنے اور انہیں عالمی رہنماو¿ں تک پہنچانے اور ان کی جانب سے دستخط کیے جانے کے بعد اس خط کو عالمی ادارہ صحت کی اسمبلی تک پہنچانے میں اقوام متحدہ (یو این) کے ذیلی ادارے یو این ایڈس اور آکسفیم نے تعاون کیا۔
مذکورہ خط کا رواں ماہ 18 مئی کو عالمی ادارہ صحت کی ورلڈ ہیلتھ اسیمبلی کے اجلاس سے قبل تنظیم کو پہنچایا گیا تاکہ مذکورہ اسمبلی کے اجلاس میں دنیا بھر کے وزرائے صحت عالمی رہنماو¿ں کی جانب سے کیے گئے مطالبے پر غور کر سکیں۔
اگرچہ عالمی ادارہ صحت کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا اجلاس 18 مئی کو ہوگا تاہم اس اجلاس سے قبل ادارے کے رکن 193 ممالک کے ارکان ورچوئل میٹنگ بھی کریں گے۔
ورلڈ ہیلتھ اسیمبلی میں پاکستان و بھارت سمیت دنیا کے 193 ممالک کے وزرائے صحت اور ماہرین صحت شرکت کریں گے اور اس ادارے کو عالمی سطح پر صحت کے معاملات کے حوالے سے فیصلے کرنے کے لیے سب سے اہم ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔
ورلڈ ہیلتھ اسمبلی عالمی ادارہ صحت کا پالیسی بنانے کا ایک فورم ہے جو عالمی سطح کی پالیسی بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
اسی پالیسی فورم سے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، جنوبی افریقہ کے صدر، نیوزی لینڈ کے سابق وزیر اعظم، کینیڈا کے سابق وزیر اعظم، فن لینڈ کے سابق وزیر اعظم، ایکواڈور کے سابق صدر، نیدر لینڈ کے سابق وزیر اعظم، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور برازیل کے سابق صدر سمیت متعدد ممالک کے 140 عالمی رہنماو¿ں، سیاستدانوں پالیسی میکرز اور معاشی، اقتصادی اور صحت کے ماہرین نے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اگر کورونا کی ویکسین بنائی جاتی ہے تو اسے اقوام عالم کو مفت فراہم کیا جائے گا۔
مجموعی طور پر عالمی رہنماو¿ں نے عالمی ادارہ صحت سے تین بڑے اور واضح مطالبات کیے ہیں جن میں سے کورونا کی ویکسین کی تیاری کے بعد اس کی مفت فراہم کو یقینی بنانا سب سے اہم ہے۔
مذکورہ خط میں عالمی ماہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کورونا کے ٹیسٹ کے طریقہ کار سمیت اس کے دیگر علاج کے طریقہ کار کو بھی تمام ممالک کے ساتھ بلا تفریق شیئر کیا جائے اور اس ضمن میں کوئی بھی معلومات اور حقائق کو خفیہ نہ رکھا جائے۔
خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ کورونا سے متعلق ویکسین سمیت تمام طبی آلات کی تیاری کے حوالے سے تکنیکی معاملات کو بھی شیئر کیا جانا چاہیے جب کہ ادویات سمیت تمام چیزوں کو ان کی لاگت کی اصل قیمت پر ہی ممالک کو فراہم کیا جانا چاہیے۔
خط میں عالمی رہنماو¿ں نے عالمی ادارہ صحت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ کورونا سے بچاو¿ کی ویکسین جو کوئی بھی ملک یا کمپنی پہلے بنائے اس ویکسین کے مالکانہ حقوق آزاد رکھے جائیں اور ویکسین کی تیاری کے طریقہ کار کو بھی تمام ممالک کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے۔
خط میں کورونا کی ویکسین تیار کرنے کے لیے یورپین یونین (ای یو) کی سربراہی میں 8 ارب ڈالر کے فنڈز کے قیام کی بھی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ اس عمل سے کورونا کی ویکسین کی تیاری میں مدد ملے گی۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں یورپین یونین کی سربراہی میں پاکستان سمیت متعدد ممالک کے رہنماو¿ں اور معروف شخصیات نے کورونا کی ویکسین کی تیاری اور اس کی تحقیق کے لیے 8 ارب ڈالر کے فنڈز میں رقم دینے کا اعلان کیا تھا۔
اس وقت دنیا بھر میں امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اسرائیل اور چین سمیت متعدد ممالک کی 100 سے زائد کمپنیاں اور ادارے کورونا سے تحفظ کی ویکسین بنانے میں مصروف ہیں، تاہم تاحال صرف 4 ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کی جا سکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت پہلے ہی کہ چکا ہے کہ کورونا سے بچائو کی ویکسین 2021 کے اختتام سے قبل دستیاب ہونا ناممکن ہے، تاہم اب تک کے حالات سے لگتا ہے کہ ویکسین 2021 میں بھی ممکنہ طور پر تیار نہیں ہو سکے گی۔