بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ بی ایس او آزاد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read


بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے بلوچ طالب علموں کی ماورائے عدالت گرفتاری میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان گذشتہ ستر سالوں سے نو گو ایریا میں تبدیل کیا جاچکا ہے جہاں کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ آئے روز سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں لوگوں کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے نامعلوم مقام پہ منتقل کرکے سالہاں سال ان کو منظر عام سے غائب رکھا جارہا ہے جبکہ جبری گمشدگی کے شکار سینکڑوں افراد دوران تشدد شہید ہوچکے ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے جسکی وجہ سے بلوچستان میں خوف کا ماحول نظر آتا ہے۔ماورائے عدالت گرفتاری سے ہر طبقہ فکر متاثر ہے لیکن حالیہ چند دنوں میں بلوچستان میں بلوچ طالب علموں کی ماورائے عدالت گرفتاری میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔


ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا گذشتہ دن خاران سے سیکورٹی فورسز نے علامہ اقبال یونیورسٹی کے ایم فل کے طالب علم ثناء سیا پاد کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔جبکہ تربت کے علاقے آبسر سے ناصر ولد پھلان اور جہانزیب ولد رفیق کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پہ منتقل کردیا۔ناصر بہا الدین ذکریا یونیورسٹی جبکہ رفیق اوتھل یونیورسٹی کے طالب علم ہے۔ اس سے قبل تربت سے کراچی یونیورسٹی کے طالب علم کو بھی ماورائے عدالت گرفتار کیا گیا تھا۔ایک جانب کرونا وائرس کی وبا بلوچ طالب علموں کی تعلیمی مشکلات کا باعث بن چکا ہے اور دوسری جانب طالب علموں کی ماورائے عدالت گرفتاری نے نہ صرف انکے مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ طالب علموں میں ذہنی اذیت اور خوف کا ماحول سرائیت کرچکا ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ سرچ اینڈ ڈسٹرائے پالیسی کے تحت بلوچستان سے سینکڑوں طالب علموں کو ماورائے عدالت گرفتار کرنے کے بعد شہید کیا جاچکا ہے۔ تنظیم سے تعلق رکھنے والے کئی بلوچ طلبہ لیڈر اور ممبران لاپتہ کئے جاچکے ہیں اور آج بھی ماورائے عدالت گرفتاری کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ طالب علم سماج کا باشعور طبقہ ہوتا ہے جو قومی بقا اور تشخص کا ضامن ہوتا ہے لیکن بلوچ طالب علموں کی ماورائے عدالت گرفتاری بلوچ قومی تشخص کو خطرات سے دوچار کرنے کا ایک حربہ ہے جسکے خلاف تنظیم اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Share This Article
Leave a Comment