بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے پاکستان کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ 2009 سے متحدہ عرب امارات کا اقامہ رکھتے ہیں، اس دوران انہوں نے دو انتخابات میں شرکت کی ہے اور ان میں بطور ایم پی اے اور ایم این اے کے رکن پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس دفعہ کا فرق یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور دیگر فورم پہ بلوچستان کے حق میں آواز اٹھانے کی انہیں سزا دی جارہی ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ اگر ایسا ہے تو یہی سہی مگر انکی آواز کو اسمبلی میں تو روکا جا سکتا ہے مگر عوام کے درمیان انہیں کیسے روکا جاسکے گا، وہ پوری تیار ہیں۔
اختر مینگل نے کہا ہے کہ اقامہ ہولڈر ہوتے ہوئے بھی نواز شریف کے کاغذات منظور کرلیے گئے، جام کمال پر بھی اقامہ ہولڈر ہونے کی بنیاد پر اعتراضات جمع تھے، جام کمال اور دیگر کے کاغذات نامزدگی مسترد نہیں کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس حلقے میں ہماری پوزیشن مضبوط تھی وہاں کاغذات مسترد کیے گئے۔ لگتا ہے کہ ہماری باتیں اور پارٹی کا موقف حکمرانوں کو پسند نہیں آیا۔