ڈیرہ غازیخان اور تونسہ شریف سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے دو نوجوانوں کے فیملیز بھی اسلام آباد دھرناکیمپ میں شریک ہوگئے۔
اس سلسلے میں اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف جاری بلوچ دھرنا کیمپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی ولد سونا بزدار اورمحمد اعجاز ولد سعید اللہ بلوچ کے فیملیزکیمپ میں شامل ہوگئے ہیں۔
لانگ مارچ منتظمین کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی ولد سونا بزدار کو 16 مارچ 2017 کو ڈیرہ غازیخان کے علاقہ زندہ پیر سے اٹھایا گیا جو تاحال لا پتہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ذوالفقار زندہ پیر کے سالانہ عرس میں گیا جہاں موٹر سائیکل اسٹینڈ پر سیول کپڑوں میں کچھ اشخاص نے آکر جھگڑا کیا اور مزاحمت پر ذوالفقار کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ رینجرز کے افراد تھے۔
ذوالفقار ولد سونا بزدار کی فیملی اس وقت اسلام آباد کیمپ میں اپنے پیارے کی بازیابی کیلئے موجود ہے۔
اسی طرح محمد اعجاز ولد سعید اللہ بلوچ کو 23 ستمبر 2023 کو تونسہ شریف سے لاپتہ کیا گیا جو FSC کے پیپر دینے کے بعد ملتان سے ڈیسپنسری کررہا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہاکہ عجاز تونسہ کے کلینک پہ پریکٹس کرتا تھا۔ 23 ستمبر کی رات 11 بجے کلینک کیلے گھر سے نکلا۔ CCTV میں اسے چوک ہاشم کی طرف جاتا دیکھا گیا مگر تاحال اسکا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
اپنے پیارے کی بازیابی کیلئے انکی فیملی اسلام آباد کیمپ میں موجود ہے ۔