غزہ میں گزشتہ دو روز میں حماس کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس جنگ کی ’بھاری قیمت‘ ادا کرنا پڑ رہی ہے مگر اور کوئی راستہ بھی نہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ یہ ایک تکلیف دہ صبح ہے کیوں کہ گزشتہ روز غزہ میں جاری لڑائی کا ایک مشکل دن تھا۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ جمعے کے روز سے فلسطینی علاقوں میں 14 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس جنگ کی بھاری قیمت‘ ادا کر رہا ہے تاہم اس کے پاس لڑائی کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں۔
ان کہنا تھا کہ ہم پوری قوت کا استعمال کریں گے، آخر تک، فتح تک اور تب تک جب تک ہمارے تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔ یعنی حماس کا مکمل خاتمہ اور ہمارے یرغمالیوں کی رہائی اور ساتھ ہی یہ طے کرنا بھی کہ غزہ اسرائیل کے لیے دوبارہ کبھی خطرہ نہ بنے۔‘‘
نیتن یاہو نے کہا، ایک بات واضح رہے کہ یہ ایک لمبی جنگ ہے۔ حماس کے خاتمے اور ہمارے شمال اور جنوب میں سکیورٹی کے حصول تک۔‘‘
رائٹرز نے اسرائیلی فوج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کی افواج نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں تقریباً 8000 فلسطینی جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے رپورٹ کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں 6 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور دیگر کو نشانہ بنایا ہے۔
چند روز بعد غزہ میں جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو جائے گی۔ اتوار کو اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی گروپوں کے درمیان کشیدگی اور لڑائی 79 ویں دن بھی جاری رہی۔