23نومبر 2023ء بالاچ ولد مولابخش کا قابض ریاستی اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں قتل کے بعد بلوچستان میں ایسی صدا بلند ہوئی جس نے ریاستی ایوانوں پہ لرزرہ طاری کردیا۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب جو اس تحریک کی رہنمائی کررہی ہے ایسی تحریک کی مثال بلوچ سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جنہوں نے ہرقسم کے ریاستی مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف بلوچ قوم کو ایک لڑی میں پرونے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ہرسدِ سکندری کو عبور کرکے وہ اسلام آباد تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوگئے۔ اورگزشتہ رات وہاں جو مظالم ان پہ ڈھائے گئے وہ آج کے جدید دور میں ڈائریت کی بدترین مثال ہے۔
بلوچستان جہاں گزشتہ 76سالوں سے پاکستانی درندگی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔پاکستانی حوانیت نے ظلم و درندگی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جن کی نظیر تاریخ ِ عالم میں بہت کم ملتی ہے۔ تمام درندگی کے باوجود بھی یہ غیر فطری ریاست بلوچوں کی مزاحمت کو ختم کرنے میں نہ صرف ناکام ثابت ہوا ہے بلکہ اس کی ان حیوانی پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان آج ایک ایسی رنگ میں ابھرکر سامنے آیا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس پورے خطے کا بلکہ اگر دنیا کی تحاریک کا بلوچ قومی تحریک کے حالیہ لہر سے تقابلی جائزہ لیا جائے میرا یہ یقین ہے کہ تجزیہ نگار بنا ہچکچاہٹ اس بات کا اظہار کریں گے کہ بلوچ قومی تحریک روشن خیالی کی ایسی مثال ہے جو پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی۔ اس تحریک کی رہنمائی کرنے والوں، اس تحریک میں شامل ہونے والوں، اس تحریک کے استقبال میں منتظر لوگوں پہ نظر دوڑائی جائے تو ہمیں خواتین کی ایسی تعداد نظر آئے گی جسے ہم آج کے مغرب میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔ میں تویہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ اگر مغرب میں بھی کوئی ریاست درندگی کی تمام حدو ں کو پار کرے تو لوگ خوف کے مارے دبک کے کسی کونے بیٹھنے میں عافیت سمجھیں گے، لیکن یہ بلوچستان ہے جس کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس وطن کے باسیوں نے اپنے اپنے زمانوں کی بڑی طاقتوں کا نہ صرف بے جگری سے مقابلہ کیا بلکہ انہیں زیادہ دیر یہاں ٹکنے بھی نہیں دیا۔اور بالاچ کا واقعہ جس نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کرلیا ہے اس ریاست کو زمین بوس کرکے رکھ دے گی۔
جب یہ تحریک شروع ہوئی تو قابض اور اس کے حواریوں (وفاق پرست، جنہیں اگر الشمس والبدر کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا) کو یہ گمان ہی نہیں تھا کہ یہ دھوئیں کے بادل نہیں بلکہ لاوا بن کے پھٹنے والا ہے اور وہی ہوا۔ جس کے بعد قابض ریاست نے کبھی اپنی فورسز تو کبھی ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے لانگ مارچ کو روکنے کی ہر ممکن کوششیں کیں لیکن اس کارواں کے ہر اٹھنے والے گام ان کی قائم کردہ دیواروں کو گرانے میں سرخرو ہوتے گئے۔
ہمارے ہاں ردِ انقلابی قوتیں اکثر یہ تبلیغ کرتے تھے اور لوگوں کے ذہنوں کو ابہام کا شکار کرتے تھے کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں، انہیں عوام میں کوئی پذیرائی نہیں۔لیکن جوں ہی کارواں جانبِ منزل رواں ہوا تو ہر منزل پہ ان کا جو استقبال ہوا اس نے ان کے جنم دینے والے وہ تمام وسوسے یکسر ختم کردیے۔ قابض اور اس کے حواریوں کو شاید یہ گمان تھا کہ مکران میں کسی حد تک لوگ شاید سڑکوں پہ نکل آئیں لیکن جب گریشہ جو ایک چھوٹی آبادی پہ مشتمل علاقہ ہے وہاں پہنچنے میں عوام کا جمِ غفیر جمع ہواتو ریاست اور اس کی پوری مشینری جس میں اس کے حواری بھی شامل ہیں حرکت میں آگئے۔لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی اور نال نے تو ایسا منظر کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ پھر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور تشدد کا سلسلہ شروع کیا گیا، تاآں کہ خضدار، پھر سوراب، قلات، تک قابض ریاست اور اس کے ڈیتھ سکواڈ براہ راست کارواں کے راستے میں کانٹے بچھاتے رہے۔۔۔ھنکین ِ غفار جان، و رامیر بخش(سگار جان) پہنچتے پہنچتے ڈیتھ سکواڈ کے کارندے ان کی روح سے بھی کاپنے لگے البتہ قابض کے عسکری اداروں کے اہلکاروں کا غیر انسانی متشددانہ رویہ جاری و ساری رہا۔ پھرحکیم جان کے ھنکین مستونگ آماچ پہ چراغاں کیا۔۔۔ازاں بعد کوئٹہ۔۔۔اب قابض کا خوف بڑھتا گیا اسی لیے تو اس نے کوئٹہ شہر کو چاروں طرح سے بند کرنے کی سعی کی۔ کچھ دن وہاں دھرنا دینے کے بعد فیصلہ ہوا کہ اب اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ کوئٹہ سے نکلنے کے بعد پشتون علاقوں میں عہدِ نصیری کی یاد تازہ ہوگئی۔ پھر کوہلو جو برطانوی سامراج کے وقت سے مزاحمت کا گڑھ ہے وہاں تو ریاست نے درندگی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں یا کہہ سکتے ہو کہ ہر گھر ریاستی بربریت کی ایک الگ کہانی پیش کرتی ہے۔شاید کسی کو یقین بھی نہیں تھا۔۔۔ہاں مجھے بھی نہیں کہ کوہلو بالاچ کا کوہلو عوامی سمندر کا روپ دھار لے گا۔ یہ کوہلو کے عوام کا اثر تھا یا کیچ سے شروع ہونے والے کا، نامِ بالاچ کا جادو، یا ماہ رنگ، سمی، سیما، صبیحہ، ناکو معیار کی جدوجہد کی بدولت عوام جاگ اٹھا تھا یا پھران بچے، جوان اور ضعیف مرد، عورتوں کی مزاحمت تھی جو جہاں کا رخ کرتے لوگ ان کے استقبال کے لیے فلک شگاف نعروں اور پھولوں کے ہار لیے موجود ہوتے۔۔۔ہاں شاید سب کا اثر ہو۔۔۔لیکن سب سے اہم بات جو آگے چل کر آشکارا ہو ا وہ تھا جذبہ حب الوطنی اور قوم دوستی۔
انگریز نے ایک لکیر کھینچ لیا اور سرزمینِ نصیر کو دولخت کردیا لیکن قومی جذبے کو ڈیڑھ سو سال بعد بھی یعنی چھ سات نسلوں کے بعد بھی ختم کرنے میں ناکام ثابت ہو ا۔ حتیٰ کہ ڈیرہ غازی میں اس وقت گرفتاریاں شروع ہوئیں جب کارواں ابھی کافی دور تھا۔۔۔یہ لوگوں کا جذبہ تھا کہ وہ گھنٹوں قبل کارواں ِ امید کا انتظار کرتے تھے۔۔۔ڈیرہ غازی خان کے بعد تونسہ شریف کے مناظر تو بیان ہی نہیں کیا جاسکتا، ایسا لگتا تھا جیسے تونسہ ہی نہیں پورا بلوچستان تونسہ کے میدانوں، بازاروں اور گلیوں میں امڈ آیا ہو۔۔۔یہاں اگر سعدیہ اور افشین جیسی بیٹیوں کا ذکر نہ ہوتو یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا، میں سمجھتاہوں کہ انہی کی محنت کا نتیجہ بھی ہے کہ تونسہ ہی نہیں بلکہ پورے ڈیرہ جات نے ایسی تاریخ رقم کرلیا جو بلوچ ”راج دپتر“کا انمول باب بن گیا۔
بلوچ خطے میں اس کارواں کی پذیرائی سے ریاست کے درو دیوار لرزاٹھے اور اس نے اسلام آباد میں داخل ہونے سے نہ صرف اس کارواں کو روکے رکھا بلکہ اس کے بعد درندگی پہ اترآیا۔ اس درندگی کے دوران اس نے عمر اور جنس میں تمیز کیے بنا سب کو لہولہاں کرنے کے بعد پابندِ سلال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ دو سو سے زائد بلوچ اس وقت اسلام آباد کے زندانوں میں مقید ہیں لیکن ان کا حوصلہ قابلِ رشک ہے۔جنہیں ہم سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والے وڈیوز اور تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
قابض ریاست اس نہتے کارواں کو اپنی درندگی کے نشانے پہ رکھتے ہوئے شاید یہ سمجھ بیٹھا کہ یوں انہیں بیڑیاں پہنچانے سے یہ تحریک ختم ہوگی لیکن اس کے بعد اب تک کی جو معلومات آرہی ہیں ڈیرہ جات سے لیکر ساحلِ بلوچ تک عوام سڑکوں پہ سراپا احتجاج ہیں۔ تحریک کا یہ ابھار قابض کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اب تیرے ظلم کے سامنے ہم جھکیں گے نہیں۔
مکران سے ڈیرہ جات تک
تم مارو گے، ہم نکلیں گے
چلتن کا حوصلہ لیے
ہرکوہ و دمن سے نکلیں گے
بالاچ کا جذبہ ساتھ ہے
ہر کوچہ گدان سے نکلیں گے
نکلیں گے ہم نکلیں گے
مقصد کے حصول تک نکلیں گے
یہ بلوچ عوام کی تحریک ہے اور عوامی تحریک کے سامنے کوئی عالمی قوت بھی بند نہیں باندھ سکتا۔بلوچ عوام کی مزاحمتی سرشت کی بدولت اس وقت قابض ریاست ایسے دہانے پہ پہنچ چکی جہاں اس کی شکست یقینی ہے لہذا اس کے پاس ایک ہی راستہ باقی ہے کہ وہ بلوچوں کی آزادی کو تسلیم کرے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو بھی بلوچستان بلکہ سندھ اور پشتون خطے کی آزادی بھی یقینی ہے۔
یہ کریمہ کی سوغات ہے، یہ ماہ رنگ کا عہد ہے، یہ سمی کا عہد ہے، یہ صبیحہ، سیما، سارین، شلی اور سعدیہ کا عہد ہے، یہ عہد معصوم فاطمہ کے کردار پہ فخر کرنے کا ہے۔۔۔یہ وہ عہد ہے جس نے شاری اور سمیعیہ کا کردار دیکھا۔۔۔ہاں یہ وہ عہد ہے جس نے دنیا کے سامنے بلوچوں کے جذبہ حریت اور روشن خیالی کو آشکارا کیا۔۔۔دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ان کے حوصلے چلتن سے بلند ہیں۔۔۔لہذا اب بھی وقت ہے کہ بوری بستر باندھ لو نہیں تو محکوموں کی آزادی کے بعد تو کس نہج پہ پہنچے گی اس کا ادراک تو ہر ذی شعور ررکھتا ہے۔
٭٭٭