بلوچستان کا اصل مسئلہ جاننے کیلئے اسلام آباد کے صحافی بھی غائب ہیں، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسلام آباد میں بلوچ لانگ مارچ شرکا کو پولیس نے لاٹھی چارج و تشددکا نشانہ بناکر 300سے زائد خواتین و بچوں ، نوجوانوںوبزرگوں کوگرفتار کرلیاہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگرنوجوان وخواتین قائدین کو گرفتاری کے بعدنامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آـباد میں نہتے بلوچ لانگ مارچ شرکاپولیس کی تشددو گرفتاریوں کیخلاف بلوچستان بھر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پراحتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔

ریاستی دہشت گردی کی اس چشم کشا واردات کورپورٹ کرنے کیلئے پاکستان کی اسٹریم میڈیا مکمل طور پرچھپ ہے جبکہ تمام صحافی اپنے بلوں میں چھپ کر بیٹھے ہیں۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر "تلاش گمشدہ برائے اسلام آباد صحافی” کے نام جاری کردہ پوسٹ میں کہا ہے کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ جاننے کیلئے اسلام آباد کے صحافی بھی غائب ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جب آپ بلوچستان کے حوالے سے بڑے بڑے تبصرے کر رہے ہوتے ہو کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ بلوچستان میں حالات کیوں ٹھیک نہیں ہو رہے؟ بلوچستان کے لوگ ریاست سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ بلوچستان کے لوگوں کے دل میں ریاست کیلئے کیوں محبت نہیں ؟ تو اس کی ایک سب بڑی وجہ تمہارے کردار بھی ہوگا!

ان کا کہنا تھا کہ آج جب بلوچ مائیں اور بہنیں ہزاروں کلومیٹر پار کرکے اسلام آباد اپنی صدائیں سنانے آئے ہوئے ہیں، آج جب وہ آپ کو بتانے آئے ہوئے ہیں کہ بلوچستان میں اصل مسئلہ کیا ہے تو سب صحافی اپنے گھروں میں چھپ گئے ہیں، یاد رکھیں یہ کردار بھی یاد رکھا جائے گا۔ یہ صرف چند لوگ نہیں بلکہ ان سے کروڑوں بلوچوں کے جذبات وابستہ ہیں، انہیں ہاتھ لگانا بھی بلوچستان میں آگ لگانے برابر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کا مسئلہ کسی نواب، سردار کا مسئلہ نہیں بلکہ اس رویے کا مسئلہ ہے جس کے تحت باقی تمام پاکستان کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن بلوچ قوم سے وہ حق چھین لیا گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment