لانگ مارچ مستونگ پہنچ گئی، شرکا کا پھولوں کیساتھ شاندار استقبال ، سیکورٹی سخت

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جبری گمشدگیوں کیخلاف بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کی لانگ مارچ مستونگ پہنچ گئی ۔ سینکڑوں افراد نے ان پر پھول نچھاور کرکے استقبال کیا۔

کوئٹہ سے بڑی تعداد میں قافلوں کی شکل میں نوجوان مستونگ پہنچے جبکہ مستونگ میں سینکڑوںکی تعداد میں لوگوں نے لانگ مارچ کااستقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

مارچ آج کوئٹہ پہنچے گی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک تازہ ترین پوسٹ میں تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پرامن لانگ مارچ کے خلاف ریاستی دہشتگردی شدت سے جاری ہے۔ مستونگ سے لانگ مارچ قافلے کو روکنے کی کنٹینرز اور پولیس تعینات کر دیے گئے ہیں۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ اب تک لانگ مارچ کو روکنے کیلئے متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں جبکہ شرکاء کے خلاف تشدد کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ ریاستی کوششیں اس وقت بھی شدت سے جاری ہیں کہ لانگ مارچ کا کافلہ کوئٹہ نہ پہنچیں۔

ریاست بلوچ قومی یکجہتی اور پرامن جدوجہد و قوت سے مکمل طور پر خوفزدہ ہو چکی ہے اس لیے اب تشدد اور طاقت پر اتر آئی ہے۔

اس سے قبل بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کی لانگ مارچ کو مستونگ کے قریبی علاقے کڈھ کوچہ میں پاکستانی فورسز نے یرغمال بناکر جانے سے روکے رکھا تھا۔

اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ پرامن احتجاج ریکارڈ کررہے ہیں جس پر انہیں یرغمال بنانا انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔

لانگ مارچ کو روکنے کیلئے ریاستی مشینری نے خضدار، سورب اور قلات کی طرح اب کڈھ کوچہ میں بھی کنٹینر لگا کر تمام سڑکیں بلاک کردی ہیں اورمارچ کے شرکا کو روکے رکھا گیا ہے۔

واضع رہے کہ خضدار سے سوراب اورقلات ، منگوچر وکڈھ کوچہ تک تما م علاقوں میں رستوں پر کنٹینریں کھڑی کرکے اور ٹرکیں روڈوں پر لٹا کر راستے بند کر دیئے تھے اور خواتین ومرودوں تشددکا بھی نشانہ بنایا گیا تھاتاکہ مارچ کے شرکا کو کوئٹہ پہنچنے نہ دیا جائے لیکن مارچ شرکا نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے تمام تر ریاستی رکاوٹوں اور تذلیل کو سہتے و عبور کرتے ہوئے مستونگ پہنچ گئی ہے ۔

https://twitter.com/BYCKech/status/1734149109471429043

علاقائی ذرائع کے مطابق کڈھ کوچہ میں بھاری تعداد میں فورسز کی نفری تعینات کردی گئی تھی جس میں لیویز، پولیس اور ایف سی شامل تھے۔

مستونگ پہنچنے سے قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دو پوسٹ میں کہا ہے کہ کوئٹہ سے بسوں پر لوڈ قافلے لانگ مارچ کو ویلکم کرنے کیلئے مستونگ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مستونگ کے عوام سے اپیل کی کہ بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح وہ بھی اپنے گھروں سے نکل کر ریاستی تشدد اور دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کریں۔

ایک اور پوسٹ میں بی وائی سی نے منگچر میں لانگ مارچ کے تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آج تحریک کا 19ویں دن ہے ۔ بلوچستان کے جن جن علاقوں سے یہ مارچ گزر رہی ہے وہاں سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارچ سے جڑ کر ریاستی دہشتگردی اور ظلم کے خلاف تحریک کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment