لانگ مارچ شرکا پر سوراب میں فورسزکی لاٹھی چارج، متعددافراد زخمی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کی تربت تا کوئٹہ لانگ مارچ کے شرکا پر سوراب میں پاکستانی فورسزنے حملہ کرکے ان پر لاٹھی چارج کیا جس سے خواتین سمیت متعددافراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا سوراب پہنچے تو فورسز کی جانب سے مارچ میں شریک خواتین اور مردوں پر لاٹھی چارج کیا گیا جس کے مطابق متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرجاری کردہ اپنے بیانات میں کہا ہے کہ سوراب میں سکندر چیک پوسٹ پر لانگ مارچ شرکاء پر شدید تشدد کیا گیا جس میں خاتون زخمی جبکہ لاپتہ ظہیر کا چھوٹا بیٹا اس وقت بے ہوشی کی حالت میں قلات منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ قلات انٹری بھی مکمل طور پر کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

https://twitter.com/BYCKech/status/1733877681446408531

بیان میں قلات کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ جلد از جلد مظاہرین تک پہنچیں جنہیں ریاست مسلسل تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک پرامن مارچ کو انصاف اور جعلی مقابلوں کے خلاف جاری ہے اُس کو تشدد سے ریاست ختم کرکے بلوچوں سے تمام سیاسی اور انسانی حقوق چھین لینا چاہتی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ آج ایک طرف دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ریاست بلوچستان میں انسانیت کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1733867755676295368

لاپتہ افراد جنہیں ریاست نے غیرقانونی طور پر اپنے حراستوں میں رکھا ہے ان کے پیارے ایک پرامن مارچ کر رہے ہیں جس کے خلاف فوری ریاستی طاقت استعمال ہو رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ خضدار سے لیکر سوراب اور پھر سوراب سے نکلتے ہی لاپتہ افراد کے لواحقین کو فورسز نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، خواتین اور بچوں پر لاٹھی چارج کرکے ریاست نے بلوچ قوم پر واضح کر دیا ہے کہ اس ملک میں ان کے کوئی سیاسی حقوق نہیں ہیں۔

https://twitter.com/PirdhanB/status/1733878656827638061

لانگ مارچ کی قیادت کرنے والی لاپتہ ڈاکٹر دین محمدبلوچ کی صاحبزادی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی سیکر ٹری جنرل سمی بلوچ نے کہا کہ سوراب میں راستے میں لاپتہ ظہیر کے بیٹے کے سر پر بندوق کی بٹ لگا کر زخمی کیا گیا ہے جنہیں بیوشی کے حالت میں قلات علاج کے لیے لئے لے جائے جا رہا ہے۔ باقی دھرنے کو روکا ہوا،سب عوام سے اپیل ہے کہ ان کے آواز بنئے۔

Share This Article
Leave a Comment