افغانستان : خواتین کی تعلیم پر پابندی سے عوام ہم سے دُور ہوئے، طالبان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان پر بزور بندوق قابض شدت پسند مذہبی گروہ طالبان حکومت کے نائب وزیرِ خارجہ شیر محمد عباس ستنکزئی نے اعتراف کیا ہے کہ افغان شہریوں کی عبوری حکومت سے دوری کی بنیادی وجہ خواتین کی تعلیم پر مسلسل پابندی ہے۔

افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز نے رپورٹ کیا کہ شیر محمد عباس ستنکزئی نے چھٹی جماعت سے آگے کی طالبات کے لیے اسکول کھولنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علم کے بغیر معاشرہ تاریک ہے۔

سرحدوں اور قبائلی امور کی وزارت کی جانب سے منعقدہ گریجویشن تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ ہر کسی کا حق ہے۔ یہ فطری حق ہے جو اللہ اور پیغمبر اسلام نے انہیں دیا ہے۔ کوئی یہ حق ان سے کیسے چھین سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اس حق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ افغان شہریوں اور اس ملک کے لوگوں پر ظلم ہے۔

ستنکزئی کا کہنا تھا کہ "تعلیمی اداروں کے دروازے سب کے لیے کھولنے کی کوشش کی جائے۔ آج پڑوسیوں اور دنیا کے ساتھ ہمارا واحد مسئلہ صرف تعلیم کے مسئلے کی وجہ سے ہے۔ اگر قوم ہم سے دوری اختیار کر رہی ہے اور ہم سے ناراض ہے تو اس کی وجہ تعلیم کا مسئلہ ہے۔”

واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نافذ کیے گئے سخت اقدامات میں، چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی بھی شامل تھی۔ بعد ازاں طالبان نے خواتین کے پارک جانے پر پابندی اور بیوٹی پارلرز کی بندش سمیت دیگر پابندیاں عائد کی تھیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب طالبان حکومت کے کسی وزیر نے خواتین کی تعلیم پر پابندی کی پالیسی پر بات کی ہو۔ اس سے قبل بھی بعض مذہبی رہنما اور طالبان حکومت میں شامل افراد اس پالیسی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کا ذمے دار سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ اور اُن کے کچھ قریبی ساتھیوں کو سمجھا جاتا ہے جو خواتین کی تعلیم کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment