غزہ میں اسرائیلی بمباری سے نامور فلسطینی ادیب رفعت العرعیر خاندان سمیت ہلاک ہوگئے۔
رفعت العرعیرفلسطین کے مشہور ماہر تعلیم، مصنف اور شاعر تھے ۔ان کی ہلاکت فلسطینی سوگوار ہیں اور انھیں مختلف انداز میں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
العرعیر کے سسر نے بتایا ہے کہ وہ اپنے بھائی، بہن اور چار بچوں سمیت بدھ کو ہونے والے اس فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔
وہ غزہ کی اسلامیہ یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے پروفیسر تھے۔ یہ یونیورسٹی 11 اکتوبر کو اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث تباہ ہو گئی تھی۔
رفعت العرعیر ایک فلسطینی غیر سرکاری تنظیم ’وی آر ناٹ نمبرز‘ یعنی ہم اعداد و شمار نہیں ہیں کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ اس تنظیم کا آغاز 2015 میں ہوا اور اس کا مقصد ’خبروں میں بتائے جانے والے فلسطینی اعداد و شمار کے بیچھے کی کہانیاں‘ بتانا تھا۔
انھوں نے اسرائیلی آپریشن کے آغاز کے بعد شمالی غزہ سے جانے سے انکار کر دیا تھا اور ہلاکت سے دو دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔
انھوں نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا تھا کہ ’عمارت لرز رہی ہے۔ ملبہ اور بم کے ٹکڑے دیواروں کو لگ رہے ہیں اور گلیوں میں اڑ رہے ہیں۔‘