لبنا ن میں صحافیوں پر ہلاکت خیز حملہ اسرائیلی ٹینک سے کیا گیا، رائٹرز، اے ایف پی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

دو خبر رساں اداروں ’رائٹرز‘ اور ’اے ایف پی‘ نے اکتوبر میں جنوبی لبنان میں ہونے والے اس حملے سے متعلق علیحدہ علیحدہ تحقیقاتی رپورٹس شائع کی ہیں جس میں ایک صحافی ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے تھے۔ ان رپوٹس میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کا یہ گروپ اسرائیلی ٹینکوں سے داغے گئے گولوں کی زد میں آیا تھا۔

دونوں خبر رساں اداروں نے ماہرین کی مدد سے ویڈیو ریکارڈنگ، سیٹلائٹ امیجز، عینی شاہدین کے بیانات اور باردو کے جائزے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانے والے گولے 120 ایم ایم ٹینک کے تھے جو اسرائیلی فوج استعمال کرتی ہے۔

یہ حملہ 13 اکتوبر کو اس وقت کیا گیا تھا جب یہ صحافی اسرائیل اور فلسطینی جنگ جوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران سرحد پر جاری دو طرفہ گولہ باری کی کوریج کے لیے علما الشعب کے علاقے میں جمع ہوئے تھے۔

‘رائٹرز اوراے ایف پی کا کہنا ہے کہ مذکورہ صحافیوں نے ایسی جیکٹس اور ہیلمٹ پہن رکھے تھے جن سے واضح طور پر نشان دہی کی جا سکتی تھی کہ وہ پریس سے تعلق رکھتے ہیں۔

خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر صحافیوں کو پہلا گولہ لگنے کے ایک سیکنڈ بعد ہی اگلا گولہ فائر کیا گیا۔ اس واقعے میں رائٹرز کے عصام عبداللہ ہلاک ہوئے جب کہ زخمی ہونے والوں میں رائٹرز سے تعلق رکھنے والے ان کے دو ساتھی اور اے ایف پی کا ایک صحافی شامل تھے۔

رائٹرز کی ایڈیٹر ان چیف ایلی سانڈرا گیلونی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم عصام کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ یہ واقعہ کیسے ہوا اور عصام کی موت، اے ایف پی سے تعلق رکھنے والی کرسٹینا ایسی اور ہمارے رفقائے کار طاہر السوڈانی، ماہر نزیہہ اور تین دیگر صحافیوں کے زخمی ہونے کی وضاحت کرے۔‘‘

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کو دو ماہ ہو گئے ہیں اور اس جنگ میں اب تک 17 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment