غزہ کی صورتحال عالمی سلامتی کو لاحق خطرات کو سنگین تر کر رہی ہے،گوتریس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بدھ کے روز لکھے گئے اپنے خط میں بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 99 کے تحت سلامتی کونسل کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ غزہ کی موجودہ صورت حال بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کو سنگین تر کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 99 سیکریٹری جنرل کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی توجہ کسی ایسے معاملے کی جانب مبذول کروائے جس سے ان کی رائے میں عالمی امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

اقوام متحدہ کی ترجمان اسٹیفنی دوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ یہ آرٹیکل کئی دہائیوں سے استعمال نہیں کیا گیا۔

انہوں نے اپنے خط میں جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا۔

گوتریس نے اپنے خط میں تحریر کیا ہےکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل بمباری اور ضروریات زندگی کی عدم دستیابی کے باعث غزہ میں شہری نظام مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور انسانی امداد کی ترسیل میں مشکلات کے باعث یہ بحران سنگین تر ہوتا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسے میں وباؤں کے پھوٹنے کے امکانات اور آبادی کو پڑوسی ممالک میں بھیجنے کا دباؤ بڑھ جائے گا۔

انہوں نے لکھا کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے "رائٹرز ” کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کو ایک مختصر قرار داد کا مسودہ جمع کروایا ہے جس میں گوتریس کے خط پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مشن نے ’ایکس‘ یعنی سابق ٹوئٹر کے نام سے معروف ویب سائٹ پر لکھا، ’’اقوام متحدہ کے مسودہ قرارداد کو اسلامی تعاون تنظیم اور عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ یہ ایک اخلاقی اور انسانی تقاضہ ہے اور ہم تمام ممالک سے سیکریٹری جنرل کا مطالبہ ماننے کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘

رائٹرز کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا ہدف ہے کہ اس قرار داد پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ جمعے کے روز کروائی جائے۔ اس روز سیکریٹری جنرل بھی غزہ کی صورت حال سے سلامتی کونسل کو آگاہ کریں گے۔

سلامتی کونسل میں قرار داد کی منظوری کے لیے کونسل کے پانچ مستقل ارکان سمیت کم از کم نو ارکان کی حمایت درکار ہے۔ کسی بھی مستقل رکن کے ویٹو کرنے کی صورت میں قرار داد منظورنہیں ہوگی۔

Share This Article
Leave a Comment