اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں بمباری اور زمینی آپریشن کے ذریعے اسرائیلی فوج نے دہشت گرد گروپ حماس کے قریب نصف بٹالین کمانڈر ہلاک کر دیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ حماس کی کُل 24 بٹالین غزہ میں لڑ رہی ہیں، جن میں سے ہر ایک بٹالین کے ایک ہزار ارکان ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلینٹ کے مطابق جلد ہی ایک بھی ایسی بٹالین نہیں بچے گی، جو اسرائیل کے لیے خطرہ ثابت ہو۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران گیلینٹ کا مزید کہنا تھا کہ غزہ پٹی پر حماس کی گرفت ختم ہو رہی ہے۔
سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل میں کیے گئے دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے نیتن یاہو کا کہنا تھا، ہم نہ تو اسے بھولیں گے اور نہ ہی معاف کریں گے۔‘‘
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے اپنی زمینی کارروائی کا دائرہ غزہ کے جنوب میں واقع سب سے بڑے شہر خان یونس تک وسیع کر دیا ہے۔
عالمی خوراک پروگرام نے کہا ہے کہ غزہ پٹی کے علاقے کو بھوک کے تباہ کن بحران‘‘ کا سامنا ہے۔
اسرائیلی فورسز غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں حماس کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے غزہ کے ان قریب دو ملین شہریوں کو خوراک کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے، جن کا انحصار اسی امدادی خوراک پر ہے۔