بالاچ دیگر افراد کی گرفتاری کیلئے ریڈ کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہوا،سی ٹی ڈی کا نیابیانیہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے بانکِ چڑھائی میں گذشتہ دنوں 22نومبر کی رات سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں 4افراد کو قتل کرکے 23 نومبر کو ان کی لاشیں تربت ٹیچنگ ہسپتال میں منتقل کردیں اور دعویٰ کیا کہ ایک مقابلے میں مذکورہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان چار افراد میں 3 کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں پاکستانی فورسز نے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

جعلی مقابلے میں قتل کئے گئے ان چار افراد میں بالاچ مولابخش کے اہلخانہ و دیگر سیاسی سماجی حلقے گذشتہ 2 دنوں سے تربت میں سراپا حتجاج ہیں اور شہید فدا چوک پر میت کے ہمراہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

بالاچ بلوچ کے فیملی کاکہناہے کہ بالاچ مولابخش کو 29 اکتوبر کی رات کو انکے گھر سے اٹھایا گیا اور 21 نومبر کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے انہیں عدالت میں پیش کرکے 10 دن کی ریمانڈ بھی حاصل کی گئی۔ جبکہ 23 نومبر کو بالاچ سمیت چار نوجوانوں کو مسلح مقابلے میں مارنے کا سی ٹی ڈی نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے جسکے خلاف لواحقین دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

دھرنا مظاہرین کا کہناتھا کہ بالاچ سی ٹی ڈی کے تحویل میں تھے اور بعد میں اسے ایک جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا توایف آئی آر سی ٹی ڈی کے نام درج ہو گا لیکن پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مقتولین کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی کے خلاف درج کی جائے اور جوڈیشل انکوائری کمیشن کے ذریعے فیک انکاؤنٹرز کی تحقیقات کی جائے۔

انتظامیہ نے دھرنا مظاہرین سے مذاکرات کئے لیکن کامیاب نہیں ہوسکے اور دھرنا جاری ہے ۔

اب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ایک نیاڈرامہ رچھایاہے ۔

جاری بیان میں کہاگیا کہ سی ٹی ڈی نے 20 نومبر کو بالاچ بلوچ کو گرفتار کیا تھا جبکہ 21 نومبر کو انہیں عدالت میں پیش کیا۔ دوران تفتیش بالاچ بلوچ نے چند انکشافات کیئے جنکی نشاندہی پر 23 نومبر کو سی ٹی ڈی کی ریڈ پارٹی جائے وقوعہ پر ریڈ کرنے گئی تھی جہاں پہلے سے موجود مسلح افراد سے دو بدو مقابلہ ہوا جس میں بالاچ کو بھی گولی لگ گئی اور وہ انتقال کرگئے۔

سی ٹی ڈی کے بیان پر ورثاء نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی فلمی اسکرپٹ معلوم ہوتا ہے جسے مسترد کرتے ہیں اور واقعہ پر جوڈیشل انکوائری کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment