گلگت بلتستان و جموں کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کامیاب مہم | کامریڈ واجد علی واجد 

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

ریاست جموں کشمیر کے دو منقسم حصے جو پاکستان کے زیر انتظام ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ سے عوام کی حکومتوں کے خلاف بےچینی اور تنائو دیکھنے لائق ہے۔ نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاسی نظام سے بیزار لوگ شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنے دئیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دھرنے سیاسی جماعتوں کی پالن ہار کرپٹ اور مراعات یافتہ بیورکریسی کے لیے مصیبت سے کم نہیں۔ جبکہ سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنے ہی کارکنوں سے خوفزدہ نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کا بانچھ پن عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکنان کے سامنے بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔

ایک طرف سیاسی جماعتوں کی قیادت مل کر اس کرپٹ اور دھونس دھاندلی پہ مبنی نظام کو بچانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ کیونکہ ان کی بقاء اسی کرٹ نظام میں ممکن ہے۔ جبکہ دوسری طرف عوام اس کرپٹ نظام کے خلاف جدید سائنسی بنیادوں پر منظم ہو کر مصروف جدوجہد ہے۔ آج سے ٹھیک ساڑھے چھ ماہ قبل خود رو انداز میں شروع ہونی والی جدوجہد عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتے ہوئے کامیابی کی طرف رواں دواں ہے۔ اس عوامی جدوجہد میں عوام کا جوش و خروش دیدنی ہے۔

تحریک عوام کی نچلی پرتوں تک منظم ہو کر یہ باور کروانے میں کامیاب ہو چکی ہے کہ اب اس خود رو انداز کا الزام دھیرے دھیرے ختم ہوکر ایک جدید منظم تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عوامی تحریک مکمل طور پر پر امن ہے اور حکمران طبقات نے وہ تمام طرح کے حربے استعمال کیے کہ تحریک ناکام ہو۔ پہلے حکمرانوں نے یہ سوچا کہ یہ چند دیوانے دھرنے دئیے بیٹھے ہیں۔ یہ خودبخود تنگ آ کر اپنے اپنے گھروں کی راہ لیں گے لیکن جب دو ماہ گزرنے کے بعد مظفرآباد کے تخت پر برا جمان چشمے والی سرکار کو احساس ہوا کہ تحریک عوام کی نچلی پرتوں تک منظم ہو رہی ہے تو انہوں نے تحریک کے متحرک دوستوں پر جھوٹے اور من گھڑت مقدامات درج کر تے ہوئے انہیں گرفتار کرنا شروع کیا تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر سڑکوں پر امڈ آیا۔

یہاں تک کہ مشتعل عوام نے جب تھانوں کا رخ کیا تو انتظامیہ سمیت حکمران طبقات سخت خوف زدہ ہوئے اور پھر عالی جاہ نے ان معصوم نہتے اور پر امن لوگوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد حکمران طبقات اور لاڈلی بیوروکریسی نے آپس میں سر جوڑ لیے تاکہ کسی طرح اس تحریک سے جان چھوڑائی جائے لیکن عوام اپنے مطالبات سے کم پر راضی نہیں۔ کبھی دو سو یونٹ فری کرنے کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ فری تو موت بھی نہیں ملتی لیکن عوام ہیں کہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا مضبوط ہتھیار بل بنکوں میں نہیں دھرنوں میں جمع ہونگے۔ حکمران کلاس کی نیندیں اُڑائے ہوئے ہیں۔ محکمہ برقیات کے ایس ڈی او۔ ایکسئین اور چیف انجنئرز کی یہ ذمہ داری لگائی گئی کہ آپ لوگوں کو بل جمع کروانے پر مجبور کریں۔ اس پر ایس ڈی او اور ایکسئین صاحبان کی دوڑیں عوام کے گھروں کی طرف لگ گئیںلیکن عوام ہیں کہ ان کے جھانسے میں آنے کے لیے تیار نہیں اور بجلی بلات کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں۔

اس عمل نے حکمران طبقات کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں جب عوام نے بغیر میٹر بجلی جلانے کا فیصلہ کیا تو حکمران طباقت کا اپنا میٹر گھوم گیا اور انہوں نے ریاستی ملازمین کو مجبور کیا کہ وہ بجلی بلات جمع کروانے میں ہماری مدد کریں اور وزیر اعظم صاحب نے یہ شاہی حکم نامہ جاری کر دیا کہ تنخواہ اس ملازم کو ملے گی جو اپنے گھر کے بجلی کا بل جمع کروا کر جمع شدہ بل کی کاپی بطور تصدیق پیش کرے گا۔ نیز حکمران طبقات نے پہلے پہل تو تحریک کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیے ری کانسیلیشن کمیٹی بنائی جو چودہ وزرا تنخواہ دار وزراء پر مشتمل تھی۔ جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے رابطہ کمیٹی بنائی جن کی خط و خطابت کے نتیجے میں مذاکرات کا عمل شروع ہوا۔

دوران مذاکرات مراعات یافتہ وزراء اور بیورو کریسی نے تحریک کے تمام مطالبات کو جائز تسلیم کیا اور کہا کہ جو مطالبات ہم حل کر سکتے ہیں ان کا جائزہ لے کر ہم رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرینگے اور جو ہمارے بس میں نہیں ان مطالبات کو لیکر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وزراء پر مشتمل کمیٹی بنائی جائیگی جو اسلام آباد کے حکمران طبقات سے مذاکرات کرتے ہوئے ان مسائل کو بھی حل کروائے گی۔ یہ سارا عمل حکمران طبقات کی طرف سے لولی پاپ ہے تاکہ عوام کی دل پشوری کی جا سکے اور بھول بھلیوں کے ذریعے عوام کا جوش و خروش کم کیا جاسکے لیکن عوام اب ان حکمران طبقات کی تمام چالوں کو سمجھ چکی ہے وہ ان کی بھول بھلیوں میں آنے والی نہیں۔

وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ اگر تحریک ٹھنڈی پڑ گئی تو پھر دوبارہ اس نوع کی تحریک کو منظم کرنے میں صدیاں لگ سکتی ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دن رات کوشش کرتے ہوئے سماج کی تمام پرتوں کو منظم کرنے اور بجلی کے بلات کا بائیکاٹ مزید موثر بنانے میں اپنا بھرپور رول ادا کر رہی ہے۔ اس کی ایک کڑی مورخہ 18 نومبر کو میرپور بار جو میرپور کی تاجر برادری، چیمبر آف کامرس، ٹرانسپورٹ یونین، ذیلی کبہ جات کمیٹی اور دیگر سیاسی سماجی پرتوں کو اپنے اندر سماہی ہوئی ہےنے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ایک میمورنڈم ہر دستخط کیے ہیںجس کے مطابق تمام وکلاء برادری اس تحریک میںبڑھ چڑھ کر حصہ لے گی۔ اس اتحاد کے مستقبل قریب میں دورس نتائج مرتب ہونگے اور تحریک مزید زور پکڑے گی۔

دوسری طرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکمرانوں کو 30 نومبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے کہ اگر مطالبات کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری حکومت نے جاری نہ کیا تو اگلے مرحلے کی تحریک حکمران طبقات کی پنچ سے باہر ہو جائے گی۔ ایک طرف آذاد کشمیر بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے ایک کانفرنس میں یہ طے کر لیا ہے کہ حکمران طبقات کو مزید ٹف ٹائم دینے کے لیے عالتی بائیکاٹ کیا جائیگا اور دوسری طرف طرف میرپور ڈسٹرکٹ بار نے 23 دسمبر کو آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وکلاء کا کنونشن کال کر دیا ہے۔ جس میں پورے ملک کی وکلاء برادری شرکت کریگی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے یہ بھی طے کیا ہے کہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنظیموں کی قیادت سے ملاقت کا عمل جلد از جلد شروع کیا جائیگا تاکہ ملازمین تنظیموں جو ایسوسی ایشنز اور ٹریڈ یونینز کی شکل میں ہیں اس تحریک کا حصہ بنایا جائے۔ پچھلے 76 سالوں میں پہلی بار اتنی لمبی اور منظم تحریک دیکھنے کو ملی ہے جس کے خلاف ہر طرح کی سازشیں کی گئیں لیکن یہ تحریک روز بروز عوام میں مقبول ہو رہی ہے۔

پہلے یہاں کی عوام تاریخ پڑھا کرتی تھی لیکن اب کی بار عوام نے تاریخ بنانے کی ٹھان لی ہے۔ اس وقت یہ جملہ صادق آ رہاہے کہ عوام سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور جب وہ منظم ہو تی ہے تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ہے۔ حکمران طبقات کے حیلے بہانوں کو دیکھتے ہوئے عوام نے ایک اور حکمت عملی مرتب کی ہے کہ وزیر اعظم سمیت تمام وزرائے کرام جہاں بھی پروگرام میں جاتے ہیں۔ ان کا پیچھا کیا جائے۔ ان پر جمع ہونے والی بلات کی کاپیاں نچھاور کی جائیں اور انہیں بھاگنے پر مجبور کیا جائے۔

اگر عوام کا مزید امتحان لیا گیا تو ان وزیروں بے ضمیروں کو عوام گاڑیوں سے اتار کر بازاروں اور گلیوں میں گھسیٹیں گے۔ میراحکمرانوں کے لیے یہ مشورہ ہے کہ وہ سری لنکا کے وزیروں کی وہ ویڈیوز ضرور دیکھ لیں جن میں وہاں کے وزیروں کی داڑھی مونچھیں عوام نے صاف کرتے ہوئے ان کی قمیضیں اوتار کر ان کی جوتوں سے دھلائی کی تھیں۔ وہ وقت آنے سے پہلے ہوش میں آجائو ورنہ تمھارا نام بھی نہ رہے گا داستانوں میں۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment