بنگلہ دیش : جماعت اسلامی کی کالعدم حیثیت برقرار،عام الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے بنگالیوں کی نسل کشی میں ملوث جماعت اسلامی کوالیکشن میں حصہ لینے پر ہائی کورٹ کی جانب سے عائد پابندی برقرار رکھی ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزار کے نمائندہ وکیل احسن الکریم نے بتایا کہ چیف جسٹس عبید الحسن نے اپیل کو خارج کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت کے طور پر کالعدم ہے اور اس فیصلے کو آج سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ بذریعہ پلیٹ فارم جماعت اسلامی کے مجالس، ایسوسی ایشن یا کسی بھی سیاسی سرگرمی کے انعقاد پر پابندی ہے، مگر جماعت کے ترجمان اور وکیل مطیع الرحمٰن کے مطابق حکم میں جماعت پر پابندی نہیں لگائی گئی لیکن اراکین کو جماعت کے بینر تلے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے۔

مطیع الرحمٰن نے کہا کہ یہ حکم جماعت اسلامی کو باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں اور ریلیوں سے نہیں روکتا، اس کا تعلق صرف اور صرف ملک کے انتخابی عمل سے ہے۔

اتوار کو شروع ہونے والے دو روزہ ملک گیر ہڑتال میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔

بنگلہ دیش کی اپوزیشن بشمول بی این پی، جماعت اسلامی اور درجنوں چھوٹی جماعتوں نے وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے 7 جنوری کے انتخابات سے قبل اقتدار چھوڑنے اور غیر جانبدار حکومت کے ذریعے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا، حکومت نے اس مطالبے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

Share This Article
Leave a Comment