لاپتہ افراد حوالے سرفراز بگٹی کی سربراہی میں قائم کمیٹی متاثرین کے جذبات سے کھلواڑ ہے، سمی دین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی سربراہی میں بنائی جانے والی لاپتہ افراد کمیٹی پر سیاسی و سماجی افراد و تنظیموں کی شدید تنقید و عدم اعتماد کا اظہار۔

بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کے جنرل سیکرٹری لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں پراس سے پہلے کئی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں COIOED جیسی کمیشن بنائی گئیں۔گزشتہ سال IHC کی جانب سردار اختر مینگل کی سربراہی میں بنایا گیا ایک اور کابینہ کمیٹی اس حکومت کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وزیر قانون اعظم نزیر کی سربراہی میں بنایا گیا اور انکی طرف سے آج تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی سنجیدگی کا مظاہرہ اس بات سے کیا جاتا ہے کہ جبری لاپتہ افراد کے کیسز کیلئے نئی کابینہ کمیٹی ایسے شخص کی سربراہی میں بنایا گیا ہے جو جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو ماننے سے انکاری ہے۔انصاف تو دور کی بات ہے ایسے کمیٹیاں بناکر صرف ہم متاثرہ خاندانوں کے جزبات اور ہمارے پیاروں کی زندگیوں سے کھیلا جارہاہے۔

واضع رہے کہ گذشتہ دنوں حکومت پاکستان نے عالمی دبائو کے پیش نظرجبری گمشدگیوںکے معاملے پر ایک اورکمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کر رہی ہے جس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ بلوچستان میں آزادی پسندافراد کے مقابلے میں پاکستانی فوج کے تشکیل کردہ ملیشیا جنہیں علاقائی سطح پر ڈیتھ اسکواڈ کہا جاتا ہے کی سربراہی کرتاہے ۔

Share This Article
Leave a Comment